مجھے بت خانے کی راہوں نے ہی میخوار کیا
پھر زمانے کی نگاہوں میں گنہ گار کیا
ہم جلیسوں کو مسیحاؤں کو دل والوں کو
اک مرے قتل نے قاتل کا طرفدار کیا
تم جسے چاہو اسے بخش دو الفت اپنی
ہم نے خود کو تو جفاؤں کا سزاوار کیا
چاند راتوں میں وہاں جھیل کنارے اکثر
ان کی نظروں نے مگر درد کا بیوپار کیا
اب جو دل سے ہیں گریزاں وہ فروزاں لمحے
کیوں انہیں گیسوئے برہم کا طلب گار کیا

14