| مجھے بت خانے کی راہوں نے ہی میخوار کیا |
| پھر زمانے کی نگاہوں میں گنہ گار کیا |
| ہم جلیسوں کو مسیحاؤں کو دل والوں کو |
| اک مرے قتل نے قاتل کا طرفدار کیا |
| تم جسے چاہو اسے بخش دو الفت اپنی |
| ہم نے خود کو تو جفاؤں کا سزاوار کیا |
| چاند راتوں میں وہاں جھیل کنارے اکثر |
| ان کی نظروں نے مگر درد کا بیوپار کیا |
| اب جو دل سے ہیں گریزاں وہ فروزاں لمحے |
| کیوں انہیں گیسوئے برہم کا طلب گار کیا |
معلومات