ذوقِ آوارگی تماشا ہے
ہر طرف بندگی تماشا ہے
ہم نے دیکھا ہے بزمِ ہستی میں
رقصِ شرمندگی تماشا ہے
خاک ہو کر بکھر گئے جو لوگ
اُن کی ہی زندگی تماشا ہے
تیری بستی میں اے مرے مولا
اب تو ہر تشنگی تماشا ہے
اے اویسؔ! آج یہ تماشا دیکھ
شوق کی بندگی تماشا ہے

0
4