| آگ سی لگا دی ہے بارشوں کے پانی نے |
| کیا ستم نہیں ڈھائے اپنی اس کہانی نے |
| قوس سات رنگوں کی دور تک جو بکھری ہے |
| یاد کیا دلا ڈالا دل کو اس دِوانی نے |
| بانکپن بھی چھینا ہے عشق کرکے ظالم سے |
| کتنا بوڑھا کر ڈالا ہم کو اس جوانی نے |
| آئینہ بھی دل کا اب کرچی کرچی بکھرا ہے |
| عکس جونہی ڈالا تھا یاد اک پرانی نے |
| آج دل کی الماری صاف کر رہا تھا میں |
| چوٹ دل پہ وہ ماری تیری اک نشانی نے |
معلومات