آگ سی لگا دی ہے بارشوں کے پانی نے
کیا ستم نہیں ڈھائے اپنی اس کہانی نے
قوس سات رنگوں کی دور تک جو بکھری ہے
یاد کیا دلا ڈالا دل کو اس دِوانی نے
بانکپن بھی چھینا ہے عشق کرکے ظالم سے
کتنا بوڑھا کر ڈالا ہم کو اس جوانی نے
آئینہ بھی دل کا اب کرچی کرچی بکھرا ہے
عکس جونہی ڈالا تھا یاد اک پرانی نے
آج دل کی الماری صاف کر رہا تھا میں
چوٹ دل پہ وہ ماری تیری اک نشانی نے

39