| تری نظر سے محبت کو اختیار ملے |
| وصال گر نہیں ممکن تو ہجر ِیار ملے |
| قدم اٹھے جو محبت میں پھر رکے ہی نہیں |
| اگرچہ راہ میں دشمن بھی صد ہزار ملے |
| کہیں کہیں تو ہمیں بھی خیال آ ہی گیا |
| ہمیں ہی کوہِ گراں غم کے بار بار ملے |
| کہیں چراغ مسلسل جلا نہیں دیکھا |
| مگر سدا کفِ ساقی میں شعلہ بار ملے |
| کہیں تو شیخ کے ہاتھوں علم زمیں پہ گرا |
| کہیں علم کو اٹھاتے گناہ گار ملے |
| تمام عمر محبت کی اک نظر کے لیے |
| الم نصیب پڑے ہیں جو ایک بار ملے |
| مقامِ دل جو میسر ہوا تو دیکھا تھا |
| جنہیں حقیر تھا جانا وہ عہدے دار ملے |
| لباس راہِ محبت میں چلنے والوں کے |
| اویس جتنے بھی دیکھے تھے تار تار ملے |
معلومات