تری نظر سے محبت کو اختیار ملے
وصال گر نہیں ممکن تو ہجر ِیار ملے
قدم اٹھے جو محبت میں پھر رکے ہی نہیں
اگرچہ راہ میں دشمن بھی صد ہزار ملے
کہیں کہیں تو ہمیں بھی خیال آ ہی گیا
ہمیں ہی کوہِ گراں غم کے بار بار ملے
کہیں چراغ مسلسل جلا نہیں دیکھا
مگر سدا کفِ ساقی میں شعلہ بار ملے
کہیں تو شیخ کے ہاتھوں علم زمیں پہ گرا
کہیں علم کو اٹھاتے گناہ گار ملے
تمام عمر محبت کی اک نظر کے لیے
الم نصیب پڑے ہیں جو ایک بار ملے
مقامِ دل جو میسر ہوا تو دیکھا تھا
جنہیں حقیر تھا جانا وہ عہدے دار ملے
لباس راہِ محبت میں چلنے والوں کے
اویس جتنے بھی دیکھے تھے تار تار ملے

0
27