چھانا ہے کبھی صحرا ، ڈھونڈا ہے کبھی ساحل
پر تیرا نشیمن تھا اجڑا ہوا میرا دل
انوار فروزاں تھے ہر سمت پہاڑوں پر
رم جھم تھی فضاؤں میں ذروں میں ادھر جھلمل
وہ طور پہ کیا تھا جو موسیٰ نہیں سہہ پائے
اے ذوقِ تجلی تو آ کے کبھی مجھ سے مل
بھٹکے ہوئے راہی کو معلوم ہی کب ہے یہ
اس راہ پہ ملتی ہے خود آ کے گلے منزل
مٹی کو شَرَف بخشا نورانی فرشتوں سے
قدرت سے تمہاری ہی مسجودِ ملائک گِل
میں بندۂ عاصی ہوں سزاوارِ کرم مولا
خاص اپنے ہی بندوں میں کر مجھ کو بھی تُو شامل
رحمت سے مجھے دے دے پھر اذنِ مدینہ تُو
حاضر ہو عقیدت سے اس در پہ وہاں سائل
نسبت سے مجھے مولا خواجہ ہیں قرن کے جو
بخشش کا ملے مژدہ عصیاں نے کیا گھائل

0
10