ہر طرف شور ہے ترقی کا
ایسے عالم میں اک حکایت ہے
دوست دشمن تمام غائب ہیں
قلتِ وقت کی شکایت ہے
امن کی جنس ہے گراں مایہ
ناچتے ہیں ہزار سو فتنے
چرچا ہر سو زباں درازوں کا
امن والے بچے ہیں اب کتنے
بے سکونی کا اک علاج پڑھا
عافیت ہے اکیلے پن میں ہی
نہ سنو کچھ نہ کچھ سناؤ تم
بات اپنی سمو لو من میں ہی
رہنا دنیا میں مستقل تو نہیں
کب تلک تم بکھیڑے پالو گے
بوجھ اپنا گھٹا سکو جتنا
نفس اپنا تبھی سنبھالو گے
اصل یہ ہے کہ تم تو سائے ہو
تم یہاں پر کہیں سے آئے ہو

0
23