| ہجرتیں اتنی ہوئیں سارا گاؤں کھا گئیں |
| سبز برگد کی چناروں کی چھاؤں کھا گئیں |
| برہنہ پا ڈھونڈا ہے اس قدر میں نے تجھے |
| گلیاں تیرے شہر کی میرے پاؤں کھا گئیں |
| یہ جو اتری ہے سفیدی سی میرے بالوں میں |
| نفرتیں تیری میں کیسے بتاؤں کھا گئیں |
| ہر بار دے کر جھوٹے دلاسے مجھ کو |
| یوں میری ہر بات کو ٹالا اس نے |
| میں جو کہتا ہوں کہ فدا ہوں تم پر |
| مطلب پھر بھی غلط نکالا اس نے |
| یوں لگتا ہے اب کے شاید برا ہو گا |
| ٹوٹا ہوا دل جو نہ سنبھالا اس نے |