ہجرتیں اتنی ہوئیں سارا گاؤں کھا گئیں
سبز برگد کی چناروں کی چھاؤں کھا گئیں
برہنہ پا ڈھونڈا ہے اس قدر میں نے تجھے
گلیاں تیرے شہر کی میرے پاؤں کھا گئیں
یہ جو اتری ہے سفیدی سی میرے بالوں میں
نفرتیں تیری میں کیسے بتاؤں کھا گئیں

0
4