محبت چھوڑ دی ہم نے محبت میں خسارے ہیں
کہیں جلتے سمندر ہیں کہیں اشکوں کے دھارے ہیں
محبت روگ روگی کا محبت جوگ جوگی کا
محبت ہوش کی قاتل محبت میں شرارے ہیں
ازل سے کھیل الفت کا خدا نے خود رچایا ہے
کبھی مجنوں کبھی لیلٰی کبھی یوسف اتارے ہیں
کسی کو یہ نہیں ملتی یہاں ہجرِ مسلسل ہے
یہ جلتی آگ کا دریا یہاں خونی کنارے ہیں
محبت بھید مرشد کا محبت خو فقیروں کی
مگر وہ راز کیا سمجھیں جو جیتے ہیں نہ ہارے ہیں
محبت کانچ کی گڑیا محبت گھر ہے شیشے کا
ذرا سی آنچ پر اس نے ہزاروں پھول مارے ہیں
فنا کے کارخانے میں جہاں بھر کے مکینوں کو
عدم کا کرب ہے ساغر فنا کے استعارے ہیں

0
34