فخر تھا جتنے لوگوں کو ہماری ہم نوائی کا
وہی بنے ہیں اب کے مستقل سبب جدائی کا
عبث ہے شکوہ تیرا ایسے بد مزاج لوگوں سے
یہاں تو بھائی بھی نہیں ہے خیر خواہ بھائی کا
مفاد زیرِ دست لاتا ہے کئی کمینوں کو
اٹھاتے ہیں یہاں پہ فائدہ سب آشنائی کا
یہ دور اچھے اچھوں کا نہیں کسی بھی طور اب
یہاں پہ اب تو حکم چلتا ہے میاں برائی کا
وہی تو نکلے ہیں چپھا کے منہ مے خانے سے سبھی
جنہیں کہ دعوٰی تھا زمانے بھر کی پیشوائی کا

0
5