یہ سوچا تو نہیں لیکن خفا ہونا ضروری تھا
بچھڑنا طے ہوا تو پھر جدا ہونا ضروری تھا
ہماری دسترس میں تھی مگر پھر بھی گنوا بیٹھے
محبت میں کسی کا تو خدا ہونا ضروری تھا
چراغِ انجمن تھا میں مجھے جلنا تھا ساری شب
اندھیری رات میں کوئی دیا ہونا ضروری تھا
بکا بابا کا گھر سارا ہوئی رخصت جواں بیٹی
فریضہ سخت تھا لیکن ادا ہونا ضروری تھا
بلی دانوں کو مدت سے تڑپ تھی خوں کی شدت سے
کہا قاتل نے بسمل سے ترا ہونا ضروری تھا
کہ میں پگڑی کا وارث تھا مرے حصے میں محنت تھی
یتیموں کے گھرانے کا بڑا ہونا ضروری تھا
بساطِ جان پر ساغر سکوتِ مرگ طاری تھا
نمازِ عشق کا آخر قضا ہونا ضروری تھا

0
4