یوں خود کو گرفتارِ بلا رکھا ہے
گویا کسی مقتل کو سجا رکھا ہے
گر بس میں ہو تو آگ لگا دوں دل کو
کم بخت نے مدت سے ستا رکھا ہے
اور ہم دل والوں کے مقدر میں یہاں
دردِ فرقت کے سوا کیا رکھا ہے
آخر گرا ہے ہمارے پہلو سے یہ دل
لاغر کو اب ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
روزِ محشر یہ جانو گے الفت میں
کتنا ہم نے نقصان اٹھا رکھا ہے
سب کچھ رہ محبت میں لٹا کے ہم نے
مشکل سے سانسوں کو بچا رکھا ہے
یہ کیا کم داد ہے کہ ساغر ہم نے
قاتل کو ابھی دل میں چھپا رکھا ہے

0
150