اب اس سے نہیں غرض کہ ہارا کیا ہے
مل جائے محبت تو خسارا کیا ہے
یہ جان و دل سب کچھ تم پر قرباں
مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تمہارا کیا ہے
جس نے سہا ہو تنہا زمانے کا دکھ
وہ کیسے جانے کہ سہارا کیا ہے
ہم بندے ہیں جس کے اس رب کے سوا
اس دنیا میں بتا ہمارا کیا ہے
فاقہ کشی میں گزری ہے رینا ساری
ہم کو یہ خبر ہے کہ گزارا کیا ہے
ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھنے والے
سچ بول کہ قسمت کا اشارہ کیا ہے؟
غیروں پہ فدا ہے مجھے اپنا بھی کہے
وہ میرا ہے تو پھر یہ سارا کیا ہے

0
50