اب اس سے نہیں غرض کہ ہارا کیا ہے
مل جائے محبت تو خسارا کیا ہے
یہ جان و دل سب کچھ تم پر فدا ہے
مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تمہارا کیا ہے
جس نے سہا ہو تنہا زمانے کا دکھ
وہ کیسے جانے کہ سہارا کیا ہے
فاقہ کشی میں گزری ہے رینا ساری
ہم کو یہ خبر ہے کہ گزارا کیا ہے
ہاتھوں پہ لکیروں کو پڑھنے والے
سچ بول کہ قسمت کا اشارہ کیا ہے؟

0
2