دل کا چارہ کرنا ہوگا
عشق دوبارہ کرنا ہوگا
سیسہ پگھلے گا پھر ایسے
خود کو پارا کرنا ہو گا
سودا گرچہ گھاٹے کا ہے
ہم کو خسارہ کرنا ہوگا
کیسے نکلیں ماضی سے ہم
کچھ تو یارا کرنا ہو گا
جلتا ساون ہو یا بارش
کوئی سہارا کرنا ہو گا
ہم تو کب سے مانے بیٹھے
ان کو اشارا کرنا ہو گا
چاند کی محفل گر جانا ہے
آنکھ کو تارا کرنا ہوگا
یار کی خاطر، جان و عالم
پارا پارا کرنا ہوگا
عشق کی راہیں ٹیڑھی سا غر
ہم کو گزارہ کرنا ہوگا

0
6