ہم کو مرنا بھی بہ صد شوق گوارا ہوتا
پیار سے تم نے اگر ہم کو پکارا ہوتا
عین ممکن ہے کہ سسی بھی پنل سے ملتی
خونی دریا کا اگر ساتھ کنارا ہوتا
چاند ملتا جو کبھی آ کے مجھے میرے گھر
پھر تو روشن مری قسمت کا بھی تارا ہوتا
اس کے ماتھے کے میں جا کے کئی بوسے لیتا
جس نے بھی تجھ کو محبت سے پکارا ہوتا
وہ بھی تم سا مری پیشانی کا جھومر ہوتا
تو نہیں گر کوئی اور تم سا  ہی  پیارا  ہوتا

0
18