میں جس کی محبت کا کبھی تاج و نگیں تھا
جاتے ہوئے اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں تھا
اُس موڑ پہ آ کے لُٹا ہے قافلہ میرا
جس موڑ پہ یارو مجھے منزل کا یقیں تھا
وہ مہرباں ہمدرد کسی اور کا تھا لیکن
افسوس! نہیں تھا تو فقط میرا نہیں تھا
میں کیسے بتاؤں قاتل کا نشاں یارو
وہ سامنے تو تھا لیکن پردہ نشیں تھا
میں اُس کو بھلا دیتا تو مر جاتا، ساغر
وہ شخص جو دل میں اک مدت سے مکیں تھا

0
207