| میں جس کی محبت کا کبھی تاج و نگیں تھا |
| جاتے ہوئے اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں تھا |
| اُس موڑ پہ آ کے لُٹا ہے قافلہ میرا |
| جس موڑ پہ یارو مجھے منزل کا یقیں تھا |
| وہ مہرباں ہمدرد کسی اور کا تھا لیکن |
| افسوس! نہیں تھا تو فقط میرا نہیں تھا |
| میں کیسے بتاؤں قاتل کا نشاں یارو |
| وہ سامنے تو تھا لیکن پردہ نشیں تھا |
| میں اُس کو بھلا دیتا تو مر جاتا، ساغر |
| وہ شخص جو دل میں اک مدت سے مکیں تھا |
معلومات