| تم جان ہو دھڑکن ہو بتا کیوں نہیں دیتے |
| یہ بات نہیں ہے تو سزا کیوں نہیں دیتے |
| میں تیری جدائی میں نہ جیتا ہوں نہ مرتا |
| تم شمعِ فروزاں ہو جلا کیوں نہیں دیتے |
| بھولا ہے جو تم کو یہاں اغیار کی خاطر |
| اب تم بھی اسے دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے |
| ترسی ہے سماعت تری آواز کو کب سے |
| مجھ کو کسی کوچے سے صدا کیوں نہیں دیتے |
| بادل ہوں یا پھیلے ہوں گھٹا ٹوپ اندھیرے |
| تم جگنو ہو تو اپنی ضیا کیوں نہیں دیتے |
| کرکے وفا جن سے ہمیں ہوتی ہیں امیدیں |
| بدلے میں وہ ہم کو وفا کیوں نہیں دیتے |
| نفرت کے اندھیروں میں دم گھٹنے لگا ہے |
| تم اپنی محبت کا دیا کیوں نہیں دیتے |
| لیتی ہے جو بوسے ترے رخسار کے ساغر |
| اِس زلفِ پریشاں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے |
معلومات