تم جان ہو دھڑکن ہو بتا کیوں نہیں دیتے
یہ بات نہیں ہے تو سزا کیوں نہیں دیتے
میں تیری جدائی میں نہ جیتا ہوں نہ مرتا
تم شمعِ فروزاں ہو جلا کیوں نہیں دیتے
بھولا ہے جو تم کو یہاں اغیار کی خاطر
اب تم بھی اسے دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے
ترسی ہے سماعت تری آواز کو کب سے
مجھ کو کسی کوچے سے صدا کیوں نہیں دیتے
بادل ہوں یا پھیلے ہوں گھٹا ٹوپ اندھیرے
تم جگنو ہو تو اپنی ضیا کیوں نہیں دیتے
کرکے وفا جن سے ہمیں ہوتی ہیں امیدیں
بدلے میں وہ ہم کو وفا کیوں نہیں دیتے
نفرت کے اندھیروں میں دم گھٹنے لگا ہے
تم اپنی محبت کا دیا کیوں نہیں دیتے
لیتی ہے جو بوسے ترے رخسار کے ساغر
اِس زلفِ پریشاں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے

64