ایک قسمت ہی میرے ساتھ نہیں
ورنہ تو کوئی ایسی بات نہیں
ناتواں کاندھوں پر یہ بوجھ نہ رکھ
جسمِ نازک ہے کوئی دھات نہیں
دن گزرتے ہیں اب کے آندھی کی طرح
رات بھی اب تو ویسی رات نہیں
زندگی اتنا آزما نہ مجھے
تیرا دکھ میرے بس کی بات نہیں
زندہ ہوں تو جہاں میں حق دو مجھے
تمغہ پھر بعد از وفات نہیں
کتنا مشکل ہے زندگی کا سفر
اور ستم یہ کہ تیرا ساتھ نہیں
بعد از جیت ہارا ہوں جہاں میں
بات سچ ہے مگر یہ مات نہیں

0
7