| وہ کیوں روٹھے ہیں پھر مجھ سے بتاتے بھی نہیں مجھ کو |
| انہیں مجھ سے محبت ہے جتاتے بھی نہیں مجھ کو |
| مرے زخموں کو گنتے ہیں بڑے ہی شوق سے لیکن |
| کبھی مرہم محبت کا لگاتے بھی نہیں مجھ کو |
| عدم کے راستے پر چل پڑا ہے کاروانِ دل |
| وہ نقشِ پا سمجھ کر اب مٹاتے بھی نہیں مجھ کو |
| مرے دل کے اندھیروں سے وہ واقف ہیں مگر پھر بھی |
| کوئی امید کا جگنو دکھاتے بھی نہیں مجھ کو |
| نفس ہے موجِ خونِ آرزو، پر بے حسی دیکھو |
| وہ طوفانِ بلا میں اب بہاتے بھی نہیں مجھ کو |
| میں جاگوں رات بھر اب جو انہیں پروا نہیں ہوتی |
| تھپک کر وہ شبِ غم میں سلاتے بھی نہیں مجھ کو |
| عبث ہے دعوٰیِ وحشت، جنونِ عشق میں یارو |
| وہ زنجیرِ قفس سے اب چھڑاتے بھی نہیں مجھ کو |
| غموں کے دشت میں تنہا کٹے گی عمر میری اب |
| وہ جھوٹی آس دے کر تک ہنساتے بھی نہیں مجھ کو |
| فدا ہونے کو حاضر ہوں، مگر وہ بے نیازی ہے |
| کہ اب وہ موت کے ڈر سے ڈراتے بھی نہیں مجھ کو |
| ہمیں منظور ہے ذوقِ تپش، پر ان کا شیوہ ہے |
| کہ وہ آتش کدے میں اب جلاتے بھی نہیں مجھ کو |
| غرورِ حسن کا دعویٰ تو ہے ان کو بہت ساغر |
| مگر وہ بزمِ امکاں میں بلاتے بھی نہیں مجھ کو |
معلومات