تجھ سے بچھڑنے کا اس دل کو ملال ہے بس
غم ہے الم ہے میں ہوں آشفتہ حال ہے بس
اک وجد طاری ہے ہم پر ہجر کا کہ اب تو
دل محوِ رقص ہے اور غم کا دھمال ہے بس
فرقت کی اک گھڑی میں ہم ساتھ یوں کھڑے ہیں
اک میں ہوں تو ہے اور اک تیرا خیال ہے بس
دن زندگی کے اب تو یوں کٹ رہے ہیں جیسے
ہم قیدِ دشت ہیں اور جینا محال ہےبس
تم بعد میرے اور کس کس کو س تاؤ گے یوں
یہ آخری مرا تم سے اک سوال ہے بس
سنتا نہیں ہے کوئی کس کو سنائیں گے ہم
غربت کا اب ہماری گردن پہ جال ہے بس

0
4