دل فسردہ ہے مگر آنکھیں نم نہیں
یہ وہ غم ہے جو قیامت سے کم نہیں
ہجر سے جلتا ہے سینہ دم گھٹتا ہے
کون کہتا ہے ہمیں کوئی غم نہیں
رات ناگن کی طرح ڈستی ہے مجھے
دن کسی مقتل کے منظر سے کم نہیں
تم چلا کے دیکھتے ہو خنجر کو کیوں
تم یہ دیکھو نبضِ بسمل میں دم نہیں
آ غمِ دوراں تمہیں ہم دیکھیں ذرا
آج یا تو ، تو نہیں یا پھر ہم نہیں

0
292