| دسترس میں جو مری چاند ستارے ہوتے |
| میں نے سارے ترے قدموں میں ہی وارے ہوتے |
| یہ الگ بات کہ ہم نے تجھے چاہا ورنہ |
| تو نہ ہوتا تو کئی لوگ ہمارے ہوتے |
| تم سے پہلے بھی تو تنہا تھے سرِ محفل ہم |
| دیکھو ہم آج بھی ، تنہا ہیں ، تمہارے ہوتے |
| عشق اور عقل کے رستے ہی الگ ہیں ورنہ |
| ہم اگر عقل سے چلتے تو خسارے ہوتے |
| مل نہ پاتے یہ بجا ، ہم رو برو تو ہوتے |
| کاش ہم بھی کسی دریا کے کنارے ہوتے |
| ہم مقدر کے سکندر نہیں ورنہ ساغر |
| آج ہم بھی کسی کی آنکھ کے تارے ہوتے |
معلومات