دامن پرزے پرزے سینہ چاک ہوا
تیری گلی میں عاشق صاحبِ خاک ہوا
عشق کیا رہبر جس نے بھی زمانے میں
اک وہی بس مثلِ خس و خاشاک ہوا
ہوتی نہ تھی جس کے منہ میں کبھی ایسی زباں
ایسے بولا ہے کہ بہت بے باک ہوا
ایک وہ خوش ہوا سن کر میرا حالِ دل
ورنہ تو جس نے بھی سنا نم ناک ہوا
یارو ہم تو گئے ہیں اپنی جاں سے مگر
اُس فتنہ پرور کا بھی پردہ چاک ہوا
سن کر میری موت کا وہ یوں گویا ہوئے
شکر ترا مالک یہ بھی قصہ پاک ہوا
مانے گا مجھ کو ساغر وہ شاعر بے نوا
میرے کلام کا جب جس کو ادراک ہوا

0
4