گھر میں جگنو ہے، نہ ستارا کوئی
کیسے کہہ دیں کہ ہے ہمارا کوئی
افلاک کی حد سے یہ پکارا کوئی
کیا تم سا بھی ہے قسمت کا مارا کوئی
پھر ہو گی مکمل یہ مری تازہ غزل
مل جائے مجھے گر استعارہ کوئی
اے دشتِ اذیت اے دریائے غم
کیا تیرا بھی ہوتا ہے کنارا کوئی
میں خاک نشیں اک صحرا کا باسی
جیسے یوسف اپنوں سے ہارا کوئی
لڑنا پڑتا ہے موجوں سے ساغر
ورنہ کب دیتا ہے سہارا کوئی

0
57