دل کا کعبہ ہے دیں کا مینار ہے میرا حسین
حق کی دنیا کا بلند اقرار ہے میرا حسین
سِبطِ احمد ہو یا ہو کونین کا نورِ نظر
عشق والوں کا درِ دیدار ہے میرا حسین
راکبِ دوشِ نبی کا جس کو ملا ہے لقب
آج بھی دل کا وہی سالار ہے میرا حسین
دشتِ کربل میں بھی جس کے لب پہ تھا شکرِ خدا
استقامت کا کڑا معیار ہے میرا حسین
خون دے کے جس نے زندہ کر دیا دینِ نبی
تاجدارِ مکتبِ ایثار ہے میرا حسین
کربلا کی خاک بھی جس کے لہو سے معتبر
سرزمینِ عشق کا گلزار ہے میرا حسین
شیرِ حیدر ، وارثِ برہان، سلطانِ وفا
دہر میں حق کا علمبردار ہے میرا حسین
فاطمہ کا لعل، حیدر کا جگر گوشہ وہی
بے کسوں کا آخری حب دار ہے میرا حسین

0
3