| خواب اشکوں کی روانی میں مر جاتے ہیں |
| ہم جیسے لا مکانی میں مر جاتے ہیں |
| جن کے لہو میں شامل ہو غربت کا دکھ |
| ان کے بچے جوانی میں مر جاتے ہیں |
| ہم پر اتنی مہرباں ہے قسمت کہ اگر |
| آگ سے نکلیں تو پانی میں مر جاتے ہیں |
| کیسے سمجھے کوئی ہجرت کے ماروں کا غم |
| جو سدا نقل مکانی میں مر جاتے ہیں |
| ذکر اتنا ہے ہمارا کتابِ زندگی میں |
| ہم تو آدھی کہانی میں مر جاتے ہیں |
| اندازِ بیاں شوخ نہ ہو تو واعظ کے |
| لفظ اپنے ہی معانی میں مر جاتے ہیں |
معلومات