گردشِ دوراں کے ہاتھوں اسیر ہو جاتے ہیں
وقت ڈھلے تو شہ بھی فقیر ہو جاتے ہیں
جنگ میں ہوتا ہے نام سپہ سالاروں کا
ہم سے فقط رزقِ شمشیر ہو جاتے ہیں
کوئی تو چھین ہی لیتے ہیں سانسیں کسی کی
اور کوئی کسی کی تقدیر ہو جاتے ہیں
شام ڈھلے تو ہم جیسے بدبخت کہیں
کچھ یادوں کے قفس میں اسیر ہو جاتے ہیں
بیٹھے، اٹھائے جاتے ہیں اُن کی محفل سے
اکثر ہم یونہی بے توقیر ہو جاتے ہیں
جس نے دیکھا ہی نہیں آزادی کا ثمر
وہ اپنے پا ، کی زنجیر ہو جاتے ہیں
جب بھی ہمیں راس آنے لگیں خوشیاں ساغر
دکھ آ کے کئی دامن گیر ہو جاتے ہیں

0
8