بسمِ خدا، بہ نامِ شہِ کشورِ وفا
سلطانِ کربلا، شہِ اقلیمِ کبریا
وہ مطلعِ تجلیِ وہ نورِ با کمال
وہ مصطفٰی کا ہم نوا وہ فاطمہ کا لال
وہ بحرِ بے کراں سا مگر صبرِ لازوال
جس کی جبیں پہ ثبت تھا منشورِ ذوالجلال
تقدیرِ حق نے پیکرِ کردارِ حق کہا
اسلام نے اسے سپہ سالارِ حق کہا
جب ابرِ جور چھا گیا آفاقِ روزگار
جب ظلم نے پہن لیا زرّیں لباسِ عار
جب تختِ کفر نے کیا شفقت کو تار تار
جب عدل ڈھونڈتا تھا کوئی صاحبِ وقار
تب دشتِ کربلا میں وہ مردِ یقیں اُٹھا
حق کا چراغ لے کے وہ روشن جبیں اٹھا
وہ ایک فرد، سامنے مردانِ بے حساب
لیکن نہ دل میں ڈر تھا کوئی اور نہ اضطراب
پیشِ نظر تھی رب کی رضا مدّعا ثواب
لب پر دعائے خیر تھی اور دل میں تھی کتاب
شمشیرِ ظلم سامنے، چہرے پہ نور تھا
گویا زمین پر کوئی پیغامِ طور تھا
بحرِ فرات اپنی روانی پہ شرم سار
جو سوگوار تھی ہوا موجیں بھی اشک بار
صحرا میں جل رہا تھا شہنشاہِ روزگار
لیکن لبِ حسینؑ پہ کوئی نہ تھی پکار
پیاسے تھے اہلِ بیت، وہ تنویرِ صبر دیکھ
سجدوں میں ڈھل رہی تھی جو تفسیرِ صبر دیکھ
پہنچے شطِ فرات پہ عباسِ با وقار
ٹھہری ہوئی تھی موج بھی لے کر دلِ فگار
دریا کے دل میں اٹھنے لگی حسرتِ بہار
گویا اسے بھی تھا شہِ والا کا انتظار
ہر موج سر جھکائے ادب سے کھڑی ہوئی
فرزندِ بو تراب کی آمد بڑی ہوئی
اکبرؑ گرے تو کانپ اٹھی ساری کائنات
قاسمؑ کی لاش دیکھ کے روئے تھے شش جہات
عباسؑ کی وفا پہ ہوئی دو جہاں میں بات
زینبؑ کے صبر پر ہوئے حیران ممکنات
لیکن امامِ صبر کے لب پر یہی رہا
جو ہے خدا کی مرضی تو ، بہتر یہی رہا
جب وقتِ عصر آیا، عجب رنگِ راز تھا
ہر ذرّہ محوِ دید، فلک محوِ ناز تھا
عرشِ بریں پہ عالمِ بالا گداز تھا
گویا خدا کا قرب تو مخفی نماز تھا
سجدے میں سر جھکا تو زمیں عرش ہو گئی
قربانی تیری اب تو سوئے فرش ہو گئی
کٹ کے بھی سر بلند تھا وہ تختِ دار پر
قرآن ہی رواں تھا لبِ شہسوار پر
حیران تھے ملائکِ عرشِ وقار پر
کیسا جلال چھا گیا دشتِ غبار پر
قاتل بھی جس کے نور سے لرزاں دکھائی دے
خورشید بھی غبار میں پنہاں دکھائی دے
وہ سر نہیں تھا، آیتِ تفسیرِ کبریا
وہ خوں نہیں تھا، چشمۂ تطہیرِ کبریا
وہ صبر تھا کہ جس میں ہے تنویرِ کبریا
وہ مظہرِ رضا تھی یا تقدیرِ کبریا
اسلام کو ابھی اسی احساں پہ ناز ہے
شبیرؑ کا لہو ہی دیں کا اعتزاز ہے
تخت و کلاہ والوں کا دربار کٹ گیا
ہر شوکتِ ستم کا نشاں تک سمٹ گیا
جو ظلم پر بنا تھا وہ تختہ اُلٹ گیا
حق کے سوا جو کچھ بھی تھا ٹکڑوں میں بٹ گیا
باطل کی سلطنت کا فقط اک غبار ہے
شبیرؑ کا وقار مگر برقرار ہے
ہر دور کے یزید کو پیغام مل گیا
آئینۂ حیات کو اِلہام مل گیا
آزاد فکر کو یہاں افہام مل گیا
انسان کو ضمیر کا انعام مل گیا
کرب و بلا کی خاک نے یہ معجزہ کیا
مردہ دلوں کو زندہ و جاوید کر دیا
اے سالکِ طریقِ وفا! مانگ لو یہاں
اے طالبِ رضائے خدا !مانگ لو یہاں
اے تشنۂ حیاتِ بقا! مانگ لو یہاں
اے طالبِ فروغِ ضیا! مانگ لو یہاں
اِس در سے ملتی آج بھی عرفان کی شراب
اِس در سے کھلتے آج بھی اسرار کے حجاب
یا رب! ہمیں بھی اُن کے غلاموں میں کر شمار
بخشش ہو اُن کے صدقے میں روزِ حساب یار
محشر میں ہو نصیب وہی سایۂ وقار
جس کے لیے ترستے ہیں افلاک بے شمار
ہم پر بھی ایک بار کرم کی نظر رہے
شبیرؑ کا غلام رہے، عمر بھر رہے

0
3