گر تری طرح تم کو بھلانے لگیں
عین ممکن ہے ہم کوزمانے لگیں
وحشتیں آ بسیں تیرے گھر میں بہت
وسوسے تیرے دل میں سمانے لگیں
سوچتے ہیں کہ تم کو بھلا دیں ہمی
ہوش تیرے بھی اب تو ٹھکانے لگیں
مجھ پہ یوں مہرباں ہیں ذرا دیکھئے
میں جلاؤں دیے وہ بجھانے لگیں
خاک چھانے تو گلیوں کی یونہی سدا
جاں کے دشمن تجھے تازیانے لگیں
تیری آنکھوں سے نیندیں بہت دور ہوں
خواب راتوں میں تجھ کو ڈرانے لگیں
ہم تو پہلے سے ہی کتنے مجبور ہیں
آپ بھی اب نہ ہم کو ستانے لگیں
میری آہیں خدا تک نہ جائیں کبھی
خوشیاں ساغر تجھے راس آنے لگیں

0
4