| بچے گا بھی تو سارا مگر کیسے بچے گا |
| ہوا کی زد میں چڑیا کا گھر کیسے بچے گا |
| جسے ورثے میں ملا ہو اک ہجرِ مسلسل |
| کہو اس کا بھلا دیدہ تر کیسے بچے گا |
| مری دستار تک آ گیا ہے دستِ قاتل |
| مجھے تو اب یہ ڈر ہے کہ سر کیسے بچے گا |
| اٹھائے پھرتا ہے پہلے صدمے جو ابھی تک |
| دلِ ناکام بارِ دگر کیسے بچے گا |
| گری ہوں جس کی دیواریں اس کچے مکاں کی |
| بتا چھت کیسے بچے گی در کیسے بچے گا |
| امیدِ بار اُس سے لگانا بھی عبث ہے |
| کٹی ہوں جس کی شاخیں، شجر کیسے بچے گا |
| جہاں پر ہو اناؤں کا ہر سو راج ساغر |
| محبت کا اکیلا نگر کیسے بچے گا |
معلومات