| مجھے اُس کا اتنا ملال ہے، مرے پاس جو کبھی تھا نہیں
|
| کہ ہو رنج کی بھلا کیا خبر، مجھے درد اتنا رہا نہیں
|
| یہ سفر تو مجھ سے بعید ہے، نہ ہی رہنما، نہ ہی آشنا
|
| میں پلٹ کے گھر بھی نہ جا سکوں، مجھے ایسے چھوڑ کے جا نہیں
|
| وہ جو مجھ پہ پورا نہ کھل سکا، وہ جو مجھ سے دور ہی جا بسا
|
| سبھی شعر اس کے ہی نام تھے، کِیا کیا غضب کہ سنا نہیں
|
|
|