| دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں |
| وہ بھی ایسی ہیں کہ پھر دیکھی نہیں چمگادڑیں |
| زیست کچھ ایسی گزاری جس طرح ویراں محل |
| جا بجا جالے دکھیں گے یا کہیں چمگادڑیں |
| سانجھ ہوتے ہی نمایاں ہو گئیں بہتات میں |
| دل گرفتہ ہو گۓ رو کر سہیں چمگادڑیں |
| پھوٹ کر ہم رو رہے تھے اپنے تیرہ بخت پر |
| اشک آنکھوں سے مگر بن کر بہیں چمگادڑیں |
| دوستو چمگادڑوں کا کچھ تدارک بھی تو ہو |
| ورنہ جم کر بیٹھ جائیں گی یہیں چمگادڑیں |
| دیکھنے میں جس قدر اچھی لگیِں اے دوستو |
| اُس قدر اندر سے میلی ہیں حسیں چمگادڑیں |
| جو جگہ ان کو ملے گی بیٹھ جانے کو رشیدؔ |
| حد سے بڑھ کر کھیل کھیلیں گی وہیں چمگادڑیں |
| رشید حسرتؔ |
| ۰۵، اگست، ۲۰۲۶ |
معلومات