درِیدہ سے بدن ہم لے کے آئے
الم کا رزق پیہم لے کے آئے
وہاں خوشیاں بھی تھیں، دکھ بھی پڑے تھے
سو اپنی چاہ سے غم لے کے آئے
جہاں تھے ہم، وہ عالم ہی جدا تھا
وہاں سے دونوں عالم لے کے آئے
بڑی مشکل سے ہاتھ آیا ہے لوگو
لٹایا شہد سو سم لے کے آئے
یہاں سے مسکراتے ہم گئے تھے
وہاں سے چشمِ پُرنم لے کے آئے
کہانی ساتھ لی بنجر زمیں کی
نشیلے تھے جو موسم لے کے آئے
خیالوں میں بھڑے پھر ادھ کھلے در
رشیدؔ اک در سے مرہم لے کے آئے
رشید حسرتؔ
۱۴، اگست، ۲۰۲۶

0
3