چٹختے جائیں خیالوں کی ٹہنیوں پر شعر
کہ گل رخوں پہ لکھوں اور تتلیوں پر شعر
یہ بیت میرا تجھے ہچکیاں بندھا دے گا
کہے ہیں یوں تو بہت میں نے سسکیوں پر شعر
یہ اور بات کہ ہیں کور چشم اپنے لوگ
نمایاں میں نے رکھے برف چوٹیوں پر شعر
پگھل کے آب ہؤا ایک شخص برف مزاج
بڑے وثوق سے لکھتا تھا گرمیوں پر شعر
اٹھا اجیر کے تن سے جو بھاپ بن کے ابھی
دھویں سے ابر بنا آج چمنیوں پر شعر
جو آدمی کے لیئے ہوں کلنک کا ٹیکہ
اثر کرے گا نہ کچھ ایسے وحشیوں پر شعر
زمانہ ساز تھے کچھ، کچھ تو خود پرست بھی تھے
لکھائے تھپکی پہ کچھ نے تو دھمکیوں پر شعر
سبھی ہیں مست سے جنگل میں، ایک میں کہ مجھے
ملے ہیں رقص کناں خشک جھاڑیوں پر شعر
کیا ہے اس نے مرے غم سے جو تہی پہلو
رشیدؔ میں نے بھی رکھ چھوڑے پُتلیوں پر شعر
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۶ اپریل ۲۰۲۶

0