گیت۔
کون کسے پیار کرے مجھ کو کہو آج ذرا
غور کرو، فکر کرو، تم بھی تو سرتاج ذرا
جاگ اٹھا درد بڑا رات مجھے جانتے ہو
لوگ پڑے سوتے رہے آئی کسے لاج ذرا؟
گُنگا بنا بیٹھ نہیں جانوں تجھے بانکا بڑا
لاج پڑی کاہے تجھے فونا ہے تو باج ذرا
وقت پلٹ آئے نہیں فرض کیا ہو بھی گیا
جاگ اٹھے بخت مرا آئے جو معراج ذرا
جینا مرا سمجھو سپھل، پاؤں اگر پیار ڈگر
کاش رکھے مان مرا پی پہ کروں راج ذرا
حکم ترا مان لیا، درد ترا باٹ لیا
بات بنے شوق ملے آج مجھے باج ذرا
مفت ملی کھاتا رہا تُو تو رشیدؔ آج تلک
کاش کرے تو بھی کبھی کام کوئی، کاج ذرا
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۱، ستمبر، ۲۰۲۶

0