| یہ ٹوٹ ٹوٹ کے کیوں لوگ اُدھر کو جاتے ہیں |
| ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں |
| اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے |
| مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں |
| وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں |
| وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں |
| بہت ہی دیر میں ہم پر یہ بھید کھلتا ہے |
| کہ گوشت پوست کو ہم کیا خدا بناتے ہیں |
| جو اپنے آپ کو اوروں کی نذر کر ڈالے |
| اب ایسے لوگ تو بس گنتیوں میں آتے ہیں |
| زوال میں تو مجھے دیکھنا گوارا نہ تھا |
| عروج میں وہ بھلا کیسے حق جتاتے ہیں |
| وہی چلے ہمیں کرنے کو آج دریا بُرد |
| رشیدؔ! جن کے لیئے کشتیاں بناتے ہیں |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۶ مئی، ۲۰۲۶ |
معلومات