| مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا |
| زہراب نے اثر نہ کیا تھا، پیے تو تھا |
| یہ کیا کہ سنگ باری تمہاری طرف سے ہے |
| دیوانہ پن یہ اپنا تمہارے لیے تو تھا |
| بوسیدہ ہو چلی تھی بدن کی قبا مگر |
| دامن کو تارِ صبر و رضا سے سیے تو تھا |
| تم نے حقیر جانا تو دھتکارنا بجا |
| توقیر میری کیا "کہ او بالشتیے!" تو تھا |
| کس زعم میں تھا جس نے گرایا نظر سے ہے |
| پہنے لباس مَیں تھا، عمامہ کیے تو تھا |
| تاریکیوں سے میری لپیٹی گئی بساط |
| آنکھوں میں کچھ لیے ہوئے روشن دیے تو تھا |
| کیسی گئی حیات الگ بات ہے مگر |
| جینے کو میں رشیدؔ برابر جیے تو تھا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۳۰، ستمبر، ۲۰۲۶ |
معلومات