اپنے جگری دوست مشتاق احمد کے لیے
توشیحی غزل۔
مرے دل میں محبت آپ کی ہے
جہاں رکھے یہ قسمت آپ کی ہے
شرافت میں گزاری زندگانی
یہی تو وجہِ عزت آپ کی ہے
تنزل آپ کا کیوں ہو گوارا
مرے دل میں وہ حدّت آپ کی ہے
ابھی بھی دل کی دھڑکن کہہ رہی ہے
ہمیں محبوب عفت آپ کی ہے
قیامت آپ کا جانا یہاں سے
بڑا ہی دکھ، اجازت آپ کی ہے
اماوس میں کہاں وحشت ہے ایسی
جدائی کی جو شدّت آپ کی ہے
حقیقت میں گھلی تھی اک کہانی
جو سچ پوچھو تو چاہت آپ کی ہے
مگس بن کر شہد سامان کرنا
کہ دینا فیض عادت آپ کی ہے
دریدہ ہو چلیں حسرتؔ کی آنکھیں
کراچی میں سکونت آپ کی ہے
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
یکم اکتوبر، ۲۰۲۶

0
1