دل سچ کا طلب گار، پرستار نہ ہوتا
اک شخص بھی پھر صاحبِ کردار نہ ہوتا
لاحق ہیں ہمیں واہمے، ہونٹوں پہ خموشی
اے کاش تمنّاؤں کا سنسار نہ ہوتا
ہوتی جو الم، درد، کراہوں میں تجارت
"یہ غلغلہِ گرمیِ بازار نہ ہوتا"
رہ لیتے سبھی امن و محبت سے، وفا سے
کوئی بھی کہیں برسرِ پیکار نہ ہوتا
ہم لوگ فقط اپنی اناؤں کے پجاری
جو بیچ میں ہے فاصلہ بیکار- نہ ہوتا
یہ عشق سلیقہ بھی مجھے اس کی عطا ہے
ورنہ تو کسی طور بھی خود دار نہ ہوتا
میں اور کروں بھولے سے بھی حکم عدولی
ایسا تو کبھی خواب میں سرکار نہ ہوتا
خدشہ تھا کوئی غم کو سرِ راہ نہ لوٹے
جاتا یہ کہاں میں جو خریدار نہ ہوتا
حسرتؔ ہیں سبھی ایک کوئی کم نہ ذیادہ
دستار کوئی، طُرّۀِ دستار نہ ہوتا
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۸، مئی ۲۰۲۶

0
5