| چپک کر رہنے والی آنکھ ہی منظر کی آسانی |
| میسر سب ہے لیکن اب نہیں ہے گھر کی آسانی |
| بڑوں کے مرتبے پر چوٹ کرنے کے سمے بیتے |
| امیروں میں ہے، جس کو اب تلک ہے ڈر کی آسانی |
| گلی کوچوں کے منظر سارے ٹھہرے ریزہ ریزہ سے |
| کہیں ماضی میں پھیکی پڑ گئی ہے در کی آسانی |
| اگرچہ ہم ترستے ہی رہے ہیں روکھی سوکھی کو |
| تمہارے واسطے سردار پھر بھی سر کی آسانی |
| کوئی سُقراطؔ والا ہی پیالہ لے کے آ جانا |
| اگر مشکل میں رکھتی ہو تمہیں ساغر کی آسانی |
| سلیقہ شعر کہنے کا کسے اچھا نہیں لگتا |
| مجھے ہو مستعار اک دن ترے پیکر کی آسانی |
| اسی تفریق نے حسرتؔ نچوڑا ہے لہو اپنا |
| مجھے کچا مکاں اس کو ملی مرمر کی آسانی |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۸ مارچ، ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat199@gmail.com |
معلومات