قصّہِ پارینہ۔
جہاں اکتا گئے تو بول دینا
منچ سے میں لوٹ جاؤں گا
ادھر نیچے کسی بے جان کرسی کی
پناہوں میں سماؤں گا
مگر پہلے مرے بے رنگ شعروں
کی طرف تھوڑی توجہ مانگنا ہوں میں
مری اس نظم کے اس رخ پہ زردی سی نمایاں ہے
اُدھر دُوجی طرف اک اژدھا
پھن کو پُھلائے جو نگلنے پر ہے آمادہ
کئی دن سے شکم پر سنگ باندھے ہم
کسی انجان خطرے کی صدائیں بھانپے بیٹھے ہیں
یہ وہ بستی ہے جس میں امن کی پریاں
پروں کو اپنے پھیلائے ہمیں رنگین گلدستے
تھمانے میں مگن رہتیں۔ ہمیں مہکی ہوئی گل زادیاں
بانہوں میں بھر کر گدگداتی تھیں
کبھی برفیلے موسم، برف سے اشجار ڈھک لیتے
گلی کوچوں میں بچے برف کی مورت بناتے تھے
بنا کر برف کے گولے تفنن کے لیئے اک دوسرے کو مارتے
تو جھوم جاتے اور خوشی سے گھوم جاتے
نجانے کس کی نظروں نے اچھالی آگ نفرت کی
نجانے دن کہاں پر جاکے بیٹھے، گوشت، سبزی پھل
ہمیں ارزان ملتے تھے۔ چونّی میں ٹماٹر جھولیاں بھر بھر کے لاتے تھے
یہاں پر حکمراں جو تھے خدا سے خوف کھاتے تھے
ابھی پارینہ قصے چٹکیاں بھرتے ہیں سینوں میں
خدائے لم یزل ہم سے خطائیں ہو گئیں لیکن
تری اک "کُن" پہ سب معمول پر پھر آ بھی سکتا ہے
مرے مولا کرم کر اب مرے مولا کرم کر دے۔
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۳، ستمبر، ۲۰۲۶

0