| میں تم کو چاہتا ہوں اور کافی چاہتا ہوں |
| نہ بولوں گا کبھی، اس کی معافی چاہتا ہوں |
| سبب مَیں تو نہیں گر زندگی دشوار ٹھہری |
| کہا کس نے خطاؤں کی تلافی چاہتا ہوں |
| کروں معیار پر ہرگز نہ کوئی سودے بازی |
| کہ زلفِ عنبریں، پلکیں غلافی چاہتا ہوں |
| کہو کیا مرد کا رتبہ نہیں زن کے مساوی |
| کہا آہَن تو پھر غم بھی اضافی چاہتا ہوں |
| رویّے اب جو منفی ہو رہے ہیں دوستوں کے |
| میں کوئی فیصلہ اس کے منافی چاہتا ہوں |
| میں اک سادہ منِش سا آدمی ہوں اے رفیفو |
| اسی نسبت سے ہمدم ایک حافی چاہتا ہوں |
| شکستہ شعر پر حسرتؔ پذیرائی کا مطلب؟ |
| کوئی سچا مخالف ہو میں نافی چاہتا ہوں |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۸، اکتوبر، ۲۰۲۶ |
معلومات