| رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا |
| عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا |
| میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا |
| مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا |
| وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز |
| کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا |
| میں جانتا ہوں اسے اب کے سر گرانی ہے |
| کہ زہر میں نے یونہی بے سبب نہ پھاکا تھا |
| کسی کے سرد رویّے انا کی آڑ میں تھے |
| یہ میرے حق پہ نہیں، زندگی پہ ڈاکہ تھا |
| لڑی میں وقت کی کس جا ہیں پھول، کانٹے کہاں؟ |
| تمہارے سامنے انجان ایک خاکہ تھا |
| لدے ہیں پشت پہ اب بھی اداسیوں کے سال |
| ہر ایک دن مرے اندر کوئی چھناکا تھا |
| تمام عمر پہ اس پل کی راجدھانی رہی |
| کہ جس میں اس نے توجہ سے مجھ کو تاکا تھا |
| بنا رہا ہے یہ مرکز، سیاستوں کا رشیدؔ |
| ابھی کھلا ہے کہ دل، دل نہیں تھا ڈھاکہ تھا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۱ اپریل، ۲۰۲۶ |
معلومات