| دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا |
| کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا |
| خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا |
| کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا |
| ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا |
| ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا |
| ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں |
| اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا |
| ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو |
| وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا |
| ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے |
| ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا |
| ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی |
| تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا |
| کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی |
| نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا |
| رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب |
| گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا |
| رشید حسرتؔ |
| ۳۰ جولائی، ۲۰۲۶ |
معلومات