بہت دکھ ہم نے جھیلے ہیں، بڑا آزار دیکھا ہے
کسی خود دار کو بکتے سرِ بازار دیکھا ہے
ہمیں صدموں سے پالہ ہے، غموں نے گود میں پالا
بالآخر آج اسے بھی بر سرِ پیکار دیکھا ہے
خداؤں نے انا کی بات کی تھی، خود پرستی کی
اجڑ کر رہ گیا اک پیار کا سنسار، دیکھا ہے
چمن کے رنگ و بو بھی جس کے آگے سر خمیدہ سے
اک ایسا خوش بدن بھی بر سرِ مہکار دیکھا ہے
کبھی ان ہونی باتوں کی مجھے حیرت نہیں ہوتی
کہ وا ہوتے ہوئے سر بستۀِ اسرار دیکھا ہے
نشاں بن جائے پتھر پر (اثر اس پر نہیں کیونکر)
مسلسل آب کی پڑتی رہے جو دھار، دیکھا ہے
ہوا ایسا بھی اکثر جس پہ حد سے بڑھ کے تکیہ تھا
اسی نے وقت پڑنے پر کیا انکار، دیکھا ہے
بہت سے چور دروازوں سے آ کر جلوہ فرما ہیں
رہا گوشہ نشیں جو اصل میں فنکار، دیکھا ہے
قصیدے کم کرو ہم خوب ہی واقف ہیں حسرتؔ سے
اُسے بھی آزمایا ہے، اُسے ہر بار دیکھا ہے
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۸ جون، ۲۰۲۶

0
4