| اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا |
| ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا |
| تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی |
| دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا |
| خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں |
| بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا |
| راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں |
| مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا |
| دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے |
| آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا |
| اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں |
| لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا |
| کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے |
| زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا |
| کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے |
| آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا |
| رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح |
| اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا |
| رشید حسرت، کوئٹہ |
| ۰۸، ستمبر، ۲۰۲۶ |
معلومات