| الگ رکھا گیا ہم کو، الگ بنایا گیا |
| کسی حسین انگوٹھی کا نگ بنایا گیا |
| جھلس کے دور سے رہنے لگے ہیں لوگ سبھی |
| ہمیں ادب کے لیے جب سے پگ بنایا گیا |
| عطا جو مجھ کو کیا حق نے، کیا گھٹائیں گے؟ |
| غرض کے سب یہ پجاری ہیں، سگ بنایا گیا |
| بس ایک اسً کی نظر ہے کہ دیکھے اندر تک |
| ہزاروں رنگ سے گویا یہ جگ بنایا گیا |
| یہ کون ہیں کہ لکھیں فیصلہ مقدّر کا |
| کہ جن کے چہروں پہ چہرہ ہے، ٹھگ بنایا گیا |
| مرے لہو میں تو شعر و شعور دوڑتا ہے |
| ہے عشق نبض مری، ضبط (رگ) بنایا گیا |
| یہ لڑکھڑا کے گریں گے رشیدؔ یاد رہے |
| کہ خوش خرامی کو بے وجہ ڈگ بنایا گیا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۳، ستمبر، ۲۰۲۶ |
معلومات