| آج ترے خلوص میں رنج رچا بسا ہؤا |
| اور اگر، عجیب ہے طور ترا تو کیا ہؤا |
| فیض بھلے لیا نہیں، شوق ترا عروج پر |
| شعر کمال کا کہا درد میں ہے گھلا ہؤا |
| پھول کھلے چمن چمن، زخم بھی تھے بدن بدن |
| دھند عروج پر رہی، قلب کہ تھا بجھا ہؤا |
| کون اسے سکھا گیا ساتھ مرا گراں اسے |
| آج رواں نہ ہو سکا کام جو تھا رکا ہؤا |
| رات بڑی اداس ہے، کون اسے منائے گا |
| اوس کہیں پڑی ہوئی، چاند ڈرا ڈرا ہؤا |
| ریت عجیب پڑ گئی، لوگ کِھچے کِھچے رہے |
| قرب جسے بزرگ کا، شخص وہی جما ہؤا |
| شان جسے عطا ہوئی کون گھٹا سکے رشیدؔ |
| آج منافقوں سے ہے شہر مرا بھرا ہؤا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۱۶، اکتوبر، ۲۰۲۶ |
معلومات