Circle Image

Dr. Shahid Mahmood

@Baardo

ميں اپنے درد کی لینے کو جو دوا نکلا - پتہ چلا کہ مرا درد لا دوا نکلا

کتنے چہرے ہیں نقابوں میں یاں انسانوں کے
کتنے سودے ہیں یہاں روز ہی ایمانوں کے
جن کو برسوں سے سمجھتے رہے ہم اپنا سا
وقت آیا تو وہی ساتھ تھے بیگانوں کے
اس نے چپ چاپ مرا ہاتھ جو تھاما اک دن
تب کھلے مجھ پہ معانی سبھی پیمانوں کے

0
4
ہم اپنے شکستہ خوابوں کو ہر روز سنوارا کرتے ہیں
پھر شام ڈھلے ان خوابوں کا چپ چاب نظارا کرتے ہیں
جب شہر کی ساری آوازیں تھک ہار کے بس سو جاتی ہیں
ہم دل کی پرانی گلیوں میں اک نام پکارا کرتے ہیں
کچھ لوگ ملیں تو لگتا ہے یہ دنیا ابھی تک اچھی ہے
وہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہر دن کو نکھارا کرتے ہیں

0
2
کبھی دل پرانے گلے بھی بھلا لے
کبھی دل کسی کو گلے سے لگا لے
کبھی تم ذرا سا تبسم دکھا دو
کہ دل بھی نئی اک کہانی بنا لے
کبھی تم خفا ہو کے نظریں چرا لو
تو دل مسکرا کر تمہیں پھر منا لے

0
5
وہ خود ہی آ گئے اک روز دل منانے کو
میں سوچتا ہی رہا تھا انہیں بلانے کو
وہ میری بات پہ ہنس کر یہ کہہ گئے مجھ سے
کوئی بہانہ تو ڈھونڈو ہمیں ستانے کو
ذرا سی دیر کو بیٹھے تھے پاس آ کر وہ
پھر ایک عمر لگی وہ گھڑی بھلانے کو

0
5
وہ مسکرا کے دیکھ گئی، بات ہو گئی
خاموشیوں میں آج ملاقات ہو گئی
میں نے کہا کہ دیر ہوئی، اب چلوں ذرا
اس نے کہا کہ بیٹھو، تو پھر رات ہو گئی
اس نے مری کتاب میں اک پھول رکھ دیا
وہ یاد میرے واسطے سوغات ہو گئی

0
9
دل میں چراغ جل اٹھے تیری صدا کے ساتھ ساتھ
آنکھ میں خواب کھل گئے رنگِ حیا کے ساتھ ساتھ
تجھ سے محبتیں ہوئیں اپنی انا کے ساتھ ساتھ
دل کی انا پگھل گئی تیری دعا کے ساتھ ساتھ
اس نے جو مسکرا دیا بات وہیں بدل گئی
دل سے گلے بھی مٹ گئے اس کی ادا کے ساتھ ساتھ

0
5
وہ آ گیا ہے کئی خواب ساتھ لائے ہوئے
ہم اس کو دیکھ رہے ہیں نگاہ اٹھائے ہوئے
کسی نے پوچھ لیا حال تو یہ یاد آیا
کہ ہم بھی پھرتے ہیں سینے میں غم چھپائے ہوئے
وہ روٹھ کر پھر اچانک ہی مسکرانے لگا
ہمیں وہ دیکھ رہا تھا نظر چرائے ہوئے

0
3
آج پھر یادوں کا موسم میرے اندر آ گیا
بند کمرے میں اچانک اک سمندر آ گیا
اس نے پوچھا حال میرا، میں تو ہنس کر رہ گیا
درد جو برسوں چھپایا تھا وہ باہر آ گیا
جس گلی سے عمر بھر بچ کر گزرتا ہی رہا
اک مہک نے پھر بلایا، میں اُسی گھر آ گیا

0
7
وہ تیری نگاہوں کی حیا یاد ہے اب تک
وہ تیری شرارت کی ادا یاد ہے اب تک
بارش میں مری سمت وہ چھتری کو جھکانا
وہ بھیگتے ہونٹوں کی دعا یاد ہے اب تک
اک بھیڑ میں آہستہ مرا نام پکارا
کانوں میں وہ گھلتی سی صدا یاد ہے اب تک

0
5
کسی کے غم میں اگر ہو کمی تو اچھا ہے
کسی کے لب پہ رہے کچھ ہنسی تو اچھا ہے
کبھی جو دل کی کوئی بات کہہ نہ پائیں ہم
نگاہ پڑھ لے یہی خامشی تو اچھا ہے
بہت دنوں سے جو اک دوسرے سے روٹھے ہیں
وہ پھر سے کر لیں ذرا دوستی تو اچھا ہے

0
2
تم ہنس دو تو دن کا بوجھ بھی ہلکا لگتا ہے
تم چپ ہو تو روشن کمرہ تنہا لگتا ہے
دن بھر کی سب باتیں تم سے کہہ لیتا ہوں میں
تم سے چپ رہنا بھی مجھ کو پیارا لگتا ہے
دن بھر کی سب الجھن لے کر گھر جب آتا ہوں
تم کو در پر دیکھ کے گھر بھی گھر سا لگتا ہے

0
6
دل میں اک خواب ہے، تعبیر کا دعویٰ بھی نہیں
اور اس خواب سے اب دل کو کنارا بھی نہیں
اس سے برسوں سے ملاقات نہیں ہو پائی
دل نے چاہا ہو اسے بھولنا، ایسا بھی نہیں
ہم نے ہنس ہنس کے چھپائے ہیں کئی زخم مگر
کوئی پوچھے تو سنانے کو فسانہ بھی نہیں

0
9
جو خواب کبھی پورے نہ ہوئے، ان خوابوں کا چرچا کون کرے
جو عمر گزر کر لوٹے ناں، اس عمر کا شکوہ کون کرے
کچھ لوگ بچھڑ کر یاد رہے، کچھ پاس رہے تو بھول گئے
جو دل سے کبھی نکلا ہی نہیں، اس شخص کو رسوا کون کرے
جو زخم ملے تھے اپنوں سے، وہ زخم بھی آخر بھر ہی گئے
جو درد ابھی تک باقی ہے، اس درد کا سودا کون کرے

0
4
تمہارے ساتھ ہر اک دن نیا زمانہ لگے
تمہارے بن یہی دنیا کوئی ویرانہ لگے
کبھی جو ہاتھ مرا تھام لو سرِ بازار
تمام شہر مجھے اپنا آشیانہ لگے
تمہارے ساتھ جو خاموش بیٹھ جاؤں کبھی
وہ ایک لمحہ مجھے عمر کا خزانہ لگے

0
6
ہم ترے ساتھ چلے، خود سے جدا بھی ہوئے
تیرے جانے پہ مگر خود سے شناسا بھی ہوئے
اپنی آواز دبائی تو سکوں مل نہ سکا
بول اٹھے تو کئی لوگ خفا بھی ہوئے
جن سے امید نہ تھی، وقت پہ وہ کام آئے
جن پہ تکیہ تھا، وہی لوگ بے وفا بھی ہوئے

0
7
دن بھر سب کے دکھ سنتے ہیں، سب کو ہنسنا سکھلاتے ہیں
رات گئے جب گھر آتے ہیں، خود سے نظر چراتے ہیں
جن کی خاطر اپنے حصے کے سارے خواب بھلاتے ہیں
وہ بھی ہم سے ملتے ہیں تو اپنے حق جتلاتے ہیں
لوگوں کی الجھن سلجھاتے، سب کو رستہ دکھلاتے ہیں
اپنی باری آ جاتی ہے، خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں

0
8
ہم نے کتنے جھوٹ پالے خوش گمانی کے لیے
کتنے سچ دل میں دبائے زندگانی کے لیے
عمر بھر خود کو بدلتے ہی رہے دنیا کے ساتھ
ہم ترستے رہ گئے اپنی نشانی کے لیے
ہم نے اپنے زخم جن لوگوں سے پوشیدہ رکھے
وہ بہت بے تاب تھے بس اک کہانی کے لیے

0
9
کسی کو حال بتایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی کو پاس بلایا نہیں ہے تیرے بعد
وہ کرسی آج بھی رکھی ہے میز کے نزدیک
کسی کو اس پہ بٹھایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی نے ہاتھ بڑھایا تو یہ خبر بھی ہوئی
ہر ایک شخص پرایا نہیں ہے تیرے بعد

0
8
کبھی بے وجہ کوئی بات ہنساتی ہے مجھے
کبھی بے نام سی خاموشی رلاتی ہے مجھے
مرے بچوں کی پرانی سی وہ تصویر ابھی
ان کے بچپن کا زمانہ دکھاتی ہے مجھے
چائے کے دو کپ ابھی میز پہ رکھے ہیں مگر
ایک خالی سی جگہ روز ستاتی ہے مجھے

0
9
بے سبب ہنسنے کا بھی تہوار ہونا چاہئے
زندگی میں کچھ نہ کچھ بے کار ہونا چاہئے
چائے ٹھنڈی ہو گئی، قصہ ابھی باقی ہے دوست
گفتگو میں بھی ذرا خمار ہونا چاہئے
اتنی جلدی کس لیے ہر بات پوری کیجیے
کچھ نہ کچھ کل کے لیے ادھار ہونا چاہئے

0
8
بہت سے لوگ ملے، کوئی ہم سبو نہ ملا
ہجومِ شہر میں اک شخص بھی نکو نہ ملا
ہزار چہرے ملے زندگی کی راہوں میں
مگر کسی میں ترا عکس ہو بہو نہ ملا
وہ عمر بھر مرے نزدیک بیٹھتا بھی رہا
مگر وہ شخص کبھی مجھ سے روبرو نہ ملا

0
10
کسی کی یاد میں خود سے بکھر گئے ہیں لوگ
عجیب بات ہے، پھر بھی سنور گئے ہیں لوگ
جو اپنے ساتھ بھی کچھ دیر رہ نہیں پائے
وہ دوسروں کی نظر سے اتر گئے ہیں لوگ
تمام عمر جنہیں راستوں سے رغبت تھی
ذرا سی دھوپ پڑی تو ٹھہر گئے ہیں لوگ

0
10
ہم نے سچ کی اس قدر قیمت چکائی ہے کہ بس
پھر اسی سچ سے نظر ایسی چرائی ہے کہ بس
علم کی محفل میں سب دانائی کے دعوے کیے
اک سوال آیا تو سب نے چپ لگائی ہے کہ بس
حق کی خاطر بولنے کا حوصلہ رکھتے تھے ہم
وقت آیا تو زباں یوں لڑکھڑائی ہے کہ بس

0
14
خوابِ غفلت سے جگا دے ساقی
دل کو جینے کی ادا دے ساقی
دل پہ برسوں سے اندھیرا چھایا
کوئی روزن تو بنا دے ساقی
سچ جو ہونٹوں پہ ٹھہر جاتا ہے
اس کو آواز بنا دے ساقی

0
8
دل کا غبار ہنس کے اڑاؤ، نشے میں آؤ
اک شام زندگی کو مناؤ، نشے میں آؤ
دن بھر سنبھال رکھا ہے دنیا نے ہوش کو
اب ہوش کو بھی نیند سلاؤ، نشے میں آؤ
ہم سے خفا ہو، خیر، مگر اتنا تو کرو
نظریں اٹھا کے آنکھ ملاؤ، نشے میں آؤ

0
6
مجھے اپنی ذات کے دشت میں کسی ہم سفر کی تلاش ہے
جو مجھے مجھی سے ملا سکے، اسی رہ گزر کی تلاش ہے
نہ وہ علم جو مرے ذہن میں فقط اپنے سچ کا اسیر ہو
جو مرے یقیں کو پرکھ سکے، مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے اس رفیق کی آرزو جو مرے سکوت کو سن سکے
جو مری نگاہ میں غم پڑھے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے

0
12
دلوں کے درمیاں حائل فقط دیوار ہی تو ہے
جو لب پر آ نہیں پایا، وہ اک اقرار ہی تو ہے
ہم اپنی ذات کی پہچان دنیا سے طلب کرتے
مگر دنیا کی نظروں کا بھی اک معیار ہی تو ہے
جسے ہم زندگی بھر اپنی خوشیوں کا سبب سمجھے
وہی رشتہ ہماری روح کا آزار ہی تو ہے

0
11
اپنی تنہائی کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
بھولی بسری اک ہنسی کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب کبھی سچ بولنے سے ڈرنے لگتے ہیں تو ہم
پھر سے اپنے خوف کو فولاد کر لیتے ہیں ہم
جن سے ملنے کی کوئی صورت نہیں باقی رہی
بند آنکھوں میں انہیں آباد کر لیتے ہیں ہم

0
14
کسی کے ساتھ چلنے کی مسرت اور ہوتی ہے
کسی کے ساتھ رکنے کی ضرورت اور ہوتی ہے
کسی کے لوٹ آنے سے پرانے دن نہیں آتے
وہی چہرہ بھی ہو لیکن طبیعت اور ہوتی ہے
کبھی جس شخص کو ہم زندگی اپنی سمجھتے ہیں
اسی کو چھوڑ دینے کی اذیت اور ہوتی ہے

0
12
صبح سے گھر سمیٹنے میں لگے
تم نے پردوں کو تہہ کیا پہلے
میں نے کھڑکی سے دھوپ اتاری تھی
ایک الماری کھول کر دیکھی
کتنے موسم تہوں میں رکھے تھے
کتنی آوازیں بند تھیں اس میں

0
15
آدمی جس زمیں پہ رہتا ہے
اس کو اپنی زمیں سمجھتا ہے
اور مٹی یہ سوچتی ہوگی
کتنے آئے تھے، کتنے گزرے ہیں
کتنے لوگوں نے عمر بھر اس پر
اپنے ہونے کے نام لکھے تھے

0
15
زندگی کے قصّے بھی کس قدر نرالے ہیں
عمر بیت جاتی ہے بے سبب سے کاموں میں

0
9
اسی چھت پر ستاروں کو کبھی دیکھا
گماں کب تھا کہ ان کی لو مسافر ہے
بہت پہلے کبھی نکلی ہوئی ہوگی
مگر کس کو خبر، وہ اب کہاں ہوگا
مرے اندر وہی بچپن چمکتا ہے
جسے میں نے بہت پہلے بھلا ڈالا

0
9
کسی نے مری رہ بنا کر کہا تھا
کہ اب تو اسی پر ہمیشہ چلے گا
مجھے بھی یہی رہ مقدر لگی تھی
مگر یہ مری آرزو ہی کہاں تھی
کسی کی خوشی کے لیے میں جھکا تھا
ہمیشہ اسے ہی عبادت کہا تھا

0
11
مرے گھر یقیں کی حکومت رہی تھی
سوالوں پہ برسوں ملامت رہی تھی
کسی دن مجھے یہ گماں ہو گیا تھا
کہ جو کچھ ملا تھا، مرا تو نہیں تھا
کتابیں مجھے شک سکھانے لگی تھیں
مرا ذہن میرا مخالف ہوا تھا

0
9
کبھی تو اُس کی نظر میں ٹھہر کے دیکھتے ہیں
وہ کیا چھپاتا ہے آنکھوں میں، پڑھ کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی تنہائیوں سے وحشت ہے
سو اس کے ساتھ کوئی شام کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی ہنسی میں چھپا ہے اک غم بھی
سو اس کی آنکھ میں کچھ پل ٹھہر کے دیکھتے ہیں

0
17
کاش اک بار وہ کچھ دل کی سناتے جاتے
ہم بھی کچھ زخم انہیں اپنے دکھاتے جاتے
عمر بھر جس کو چھپایا تھا زمانے بھر سے
وہی اک راز تمہیں کیسے بتاتے جاتے
ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ اور بھی باقی ہے ابھی
تم نے اچھا کیا، یہ وہم مٹاتے جاتے

0
12
وہ اپنی ذات سے ہر دم جدائی مانگتا کیوں ہے
جو خود سے بھاگتا ہے، آشنائی مانگتا کیوں ہے؟
یہاں ہر شخص اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے
مگر اپنی ہی خواہش سے رہائی مانگتا کیوں ہے؟
جسے معلوم ہے کوئی کسی کا ہو نہیں سکتا
وہ ہر اک اجنبی سے دل ربائی مانگتا کیوں ہے؟

0
14
میں ایک روز ستاروں کو گن کے لوٹا تھا
زمین والوں نے پوچھا کہ ہاتھ کیا آیا

0
6
میں اُس کے سامنے اتنا شریف بن بیٹھا
کہ اپنی بات بھی کہنے میں بے ادب سا لگا

0
6
میں اس کے سامنے سچ بولنے ہی والا تھا
پھر اس نے کہہ دیا، تم پر یقیں بہت ہے مجھے

0
4
کتاب کھلتی تو وہ رات بھر نہیں سوتی
کبھی وہ دودھ، کبھی چائے لے کے آتی تھی
میں اپنے کل کی عبارت سمجھنے بیٹھتا تھا
وہ میرے آج کی ہر بے کلی مٹاتی تھی
بلند خواب تھے اس کے، مگر عجب تھی وہ ماں
کہ اپنی خواہشوں کا بوجھ خود اٹھاتی تھی

0
3
میں اپنی عمر کو برباد بھی نہیں کہتا
کہ میرے ہاتھ سے کتنے چراغ روشن ہیں
مگر یہ روشنی میری گواہ ہو کیسے
کہ میرے اپنے ہی کچھ خواب آج مدفن ہیں
میں لوٹ جاؤں تو کس موڑ سے سفر بدلوں؟
کہ ہر قدم پہ کسی کی حیات رکھی ہے

0
3
کسی نے مجھ سے کبھی اپنے دکھ چھپائے نہیں
میں ان کی آنکھ سے ہر اضطراب پڑھتا رہا
وہ اپنے زخم دکھاتے رہے مجھے، اور میں
خود اپنے زخم کو آداب میں چھپاتا رہا
مرے سکوت کو سب نے مری رضا سمجھا
مری ہنسی کو مرے حال کی خبر جانا

0
2
وہ ایک بچہ ستاروں کو دیکھ کر خوش تھا
کہ جیسے دور سے کوئی اسے بلاتا ہو
ہر ایک نور میں پوشیدہ کوئی راز اسے
کسی نہ دیکھی زباں میں سنائی دیتا ہو
میں آج جانتا ہوں، روشنی صدا تو نہیں
نہ کوئی خط ہے، نہ پیغام، نہ کوئی مکتوب

0
11
کبھی یہ سوچ رکھا تھا، کبھی فرصت ملے گی تو
کسی دن زندگی اپنی بھی کچھ فرصت سے دیکھیں گے
ابھی تو قرض ہیں، رشتے ہیں، وعدے ہیں، تقاضے ہیں
کبھی ان سب سے فرصت ہو تو اپنی سمت دیکھیں گے
پرانے کاغذوں میں آج اک سوکھا ہوا گل تھا
وہی جو میں نے برسوں قبل اک موسم سے مانگا تھا

0
16
مجھے حیات نے رستے ہزار بخشے تھے
ہر ایک راہ پہ اوروں کا بھی تقاضا تھا
میں اپنے خواب کی جانب قدم بڑھاتا بھی
تو میرے سامنے اپنوں کا کوئی چہرہ تھا
مرے خلاف نہ کوئی تھا، پھر بھی جانے کیوں
تمام عمر مرے فیصلے خلاف رہے

0
8
مرے بزرگوں نے مجھ کو یقین سونپا تھا
میں اس یقین کی بنیاد کھوجنے نکلا
وہ روشنی جو کئی نسلوں کی امانت تھی
میں اس چراغ کی ماہیت پوچھنے نکلا
ہر ایک کشف نے اک اور شک کو جنم دیا
ہر ایک جواب نے اک اور باب کھول دیا

0
6
عجب ہے علم کا سودا، عجب خسارہ ہے
کہ جس نے راز کو پایا، وہ بے سہارا ہے
وہ جس کی آنکھ پہ روشن ہوئے ہزاروں جہاں
اسی کی زیست پہ اک مستقل اندھیرا ہے
میں کائنات کے اسرار کھوجتا ہی رہا
مگر خود اپنی مسرت کا راز پا نہ سکا

0
6
مجھے خبر تھی کہ یہ کائنات کیا شے ہے
مگر یہ علم نہ تھا، میری ذات کیا شے ہے
وہ جس کے سامنے افلاک بے حجاب ہوئے
اسی کے واسطے اپنی حیات کیا شے ہے؟
عجیب ظلم ہے، خواہش کو آگہی دے کر
پھر اس کی راہ میں اسباب کی کمی رکھنا

0
15
مری خاطر کوئی لمحہ، کوئی موسم نہیں ٹھہرا
مگر میری مشقت سے کئی گھر بار روشن ہیں
مری محرومیوں کا ذکر بے معنی نہیں لیکن
مرے حصے کی تاریکی میں کتنے خواب روشن ہیں
کسی کی آرزو کو میں نے اپنا فرض سمجھا تھا
کسی کی زندگی کو اپنی ہستی سے سنوارا تھا

0
10
کسی کو کسی کی خبر ہی نہیں تھی
کسی کو کسی کی فکر ہی نہیں تھی
وہاں ایک مدت سے اک شور برپا
مگر کوئی آواز سنتا نہیں تھا
وہاں قتل ہوتے رہے روز لیکن
کسی شخص نے کچھ بھی دیکھا نہیں تھا

0
3
یہاں کسی کو کسی پر بھی اعتبار نہیں
عجیب شہر ہے، لوگوں کو خود سے پیار نہیں
تمام شہر کو معلوم ہے کہ قاتل کون
مگر کسی کو گواہی کا اختیار نہیں
کسی نے پوچھ لیا شہر میں ہے کون شریف
کسی بھی جرم میں اب تک جو گرفتار نہیں

0
8
یہ کیسا شہر ہے، سب لوگ مسکراتے ہیں
کسی کے زخم پہ بھی قہقہے لگاتے ہیں
عجیب لوگ ہیں، سچ بولنے سے ڈرتے ہیں
مگر جو جھوٹ ہو، اس کو یقیں بناتے ہیں
یہاں شریف وہی ہے جو چپ رہے صاحب
جو سچ کہے، اسے آداب بھی سکھاتے ہیں

0
11
ہم اپنے آپ سے ملتے تو کیا نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ اپنا پتا نہیں ہوتا
یہ جستجو رہی اپنا سراغ پا لیتے
خود اپنی ذات سے بڑھ کر خلا نہیں ہوتا
عجیب شخص ہوں، ہر بار ہار جاتا ہوں
مگر شکست کا مجھ کو گلہ نہیں ہوتا

0
3
ہمیں تو اپنی تباہی کا بھی ملال نہ تھا
عجیب شخص تھے، جینے کا کچھ خیال نہ تھا
ہمیں تو عشق سے پہلے بھی ایک وحشت تھی
سو اپنی ذات کا یہ پہلا اختلال نہ تھا
ہم اپنی ذات سے بیزار تھے شروع سے ہی
تمہارا عشق تو ہم پر کوئی وبال نہ تھا

0
9
ہم اپنے آپ سے بچ کر کہاں نکلتے ہیں
جہاں بھی جائیں، وہیں خود سے آ کے ملتے ہیں
عجیب عمر ہے، اک دن بھی جی نہیں پاتے
مگر یہ سال ہیں، چپ چاپ جو نکلتے ہیں
وہ جس کے بعد ہمیں زندگی بدلنی تھی
اسی کی یاد میں ہر بار خود میں ڈھلتے ہیں

0
10
ہم اپنی ذات کو خود ہی سلام کرتے رہے
عجیب کام تھا جو صبح شام کرتے رہے
وہ پوچھتے تھے کہ آخر ہے زندگی کیا شے
ہم ایک شخص کا قصہ تمام کرتے رہے
ہمیں خبر تھی کہ انجام کچھ نہیں ہوگا
مگر امید کا پھر احترام کرتے رہے

0
11
ہمیں گماں تھا ہم عشق میں شرابی تھے
کھلا یہ راز کہ ہم لوگ ہی خرابی تھے
عجیب لوگ تھے، ہر بات پر دلیل ان کی
ہم اہلِ عشق تھے، وہ لوگ تو کتابی تھے
ہم اپنے زخم چھپاتے رہے ہنسی میں مگر
ہمارے قہقہے اندر سے کچھ عذابی تھے

0
9
ہم اپنے آپ سے کب کے جدا ہوئے ہوں گے
کسی کے ہونے کی خاطر فنا ہوئے ہوں گے
وہ جن کو ہم نے محبت کا فلسفہ سمجھا
وہ چند لفظ تھے، آخر ہوا ہوئے ہوں گے
یہ اور بات کہ ہم نے گلہ کیا ہی نہیں
تمہارے ظلم بھی شاید روا ہوئے ہوں گے

0
11
کبھی سوچا ہے، اگر وقت پلٹ بھی جائے
وہی موسم، وہی رستے، وہی چہرے آئیں
کیا وہ حیرت بھی پلٹ آئے گی آنکھوں میں کبھی
جس سے معمولی سی دنیا بھی نئی لگتی تھی
وہ یقیں، جن پہ سوالات نہیں ہوتے تھے
وہ تعلق، جو فقط دل سے نبھایا ہم نے

0
11
خبر بہت ہے مگر آگہی کہیں نہیں ہے
سوال زندہ ان میں زندگی کہیں نہیں ہے
بہت اصول تھے جن پر زمانہ قائم تھا
وہ اختلاف کی شائستگی کہیں نہیں ہے
ہزار علم کے دریا بہے ہیں دنیا میں
مگر سوال کی وہ تشنگی کہیں نہیں ہے

0
15
اس گلی میں سحر نہیں آتی
راہ کوئی بھی گھر نہیں آتی
ایک مدت سے در کھلا رکھا
کوئی آہٹ ادھر نہیں آتی
سب کے عیبوں پہ بات کرتا ہوں
اپنی باری مگر نہیں آتی

0
15
روشنی میں کہاں چھپوں صاحب
اپنا سایہ کہاں رکھوں صاحب
گھر میں ہر شے وہیں پڑی ہے مگر
اس کو گھر کس طرح کہوں صاحب
در بھی میں نے ہی بند رکھا تھا
اب یہ دستک کہاں سنوں صاحب

0
16
بات پوری تو ہو گئی اس سے
بات جو تھی وہ رہ گئی جیسے

0
9
سب سے ملتے رہے، خفا سے رہے
اپنے ہی آپ سے جدا سے رہے
عمر بھر ہم جواب لکھتے رہے
کچھ سوالات ابتدا سے رہے
ہم نے رشتے بہت بچائے مگر
عمر بھر خود سے ہی خفا سے رہے

0
18
ہر صبح
اسی کپ میں چائے آتی ہے۔
کھڑکی کے پاس وہی میز،
دھوپ کا وہی چھوٹا سا ٹکڑا،
اور میری انگلیاں
کپ کی گرم دیوار کے گرد

0
10
مری نگاہ کو مجھ سے ہی باخبر کر دے
مرے فریب کو تھوڑا سا بے ضرر کر دے
مرے سکوت کو اب گفتگو کا فن دے کر
مری زبان کو تھوڑا سا با اثر کر دے
میں اپنے خوف کو برسوں سے پالتا آیا
اسی کو اب مرے رستے کا راہبر کر دے

0
10
یہ گھر بھرا ہے مگر کوئی آشنا بھی نہیں
کھلے ہیں در مگر اندر کوئی صدا بھی نہیں
وہ میرے گھر میں رہا ایک عمر لیکن پھر
گیا تو ایسا کہ جیسے کبھی رہا بھی نہیں
وہ ایک شخص مری یاد میں تو زندہ ہے
مگر یہ سچ ہے کہ اب اس سے رابطہ بھی نہیں

0
11
تمہارا دل جو سمجھائے تو کہنا
وہی دل تم کو بھٹکائے تو کہنا
یہ شہرت بھی بہت روشن لگے گی
نظر اپنا بھی نہ آئے تو کہنا
وہ کرسی آج بھی خالی پڑی ہے
کسی کو یاد نہ آئے تو کہنا

0
14
ہم کو ہم سے ذرا بچائے کون
اپنا چہرہ ہمیں دکھائے کون
ایک دیوار درمیان تو ہے
اینٹ پہلی مگر ہٹائے کون
ہم نے خود ہی چراغ پھونک دیا
اب اندھیرے سے گھر بچائے کون

0
12
ہم کئی بار خود اپنے سے مکر جاتے ہیں
آئنے سامنے آئیں تو بھی ڈر جاتے ہیں
ہم نے خط پھاڑ کے دریا میں بہائے پھر بھی
کچھ ورق ذہن کے اندر ہی ٹھہر جاتے ہیں
ایک مدت سے وہی شخص نہیں ہے لیکن
اس کے موسم مرے کمرے سے گزر جاتے ہیں

0
11
ایک ہی چھت کے تلے آباد سب
اپنے اپنے حال میں برباد سب
ایک سچ بولا تو محفل چھٹ گئی
جھوٹ پر ہوتے رہے دلشاد سب
اپنے اپنے خوف کے پیچھے چھپے
دیکھنے میں تھے بہت آزاد سب

0
14
مری تنہائی مجھ سے آشنا تھی
مری محفل مگر مجھ سے جدا تھی
وہ جس کو اپنی کمزوری میں سمجھا
وہی شاید مری آخر بقا تھی
مجھے جس شخص سے شکوہ بہت تھا
مری اپنی بھی اس میں کچھ خطا تھی

0
13
صرف صورت نہ ہو میزان، ذرا دیکھ تو لو
کون اندر سے ہے ویران، ذرا دیکھ تو لو
شہر کہتا ہے ترقی نے بدل دی دنیا
پیچھے رہتا ہے جو انسان، ذرا دیکھ تو لو
گھر تو روشن ہیں، دریچوں میں اجالا بھی بہت
یہ اجالا بھی ہے بے جان، ذرا دیکھ تو لو

0
16
دراز کے پچھلے خانے میں
ایک پرانی چابی پڑی تھی۔
چھوٹی سی،
کناروں سے گھسی ہوئی،
زنگ کی باریک تہہ میں لپٹی،
اور سرے کے پاس

0
14
سب کے چہروں پہ لکھی بات سمجھ لیتا ہوں
اپنے اندر کا مگر حرف نہیں پڑھ پاتا

0
13
میں تو پتھر ہوں، پگھلنا نہیں آتا ہے مجھے
وقت کے سانچے میں ڈھلنا نہیں آتا ہے مجھے
میں نے دریا کو کئی رنگ بدلتے دیکھا
اپنا یہ رنگ بدلنا نہیں آتا ہے مجھے
ایک آواز بہت دیر سے اندر ہے مرے
اس کو لفظوں میں اگلنا نہیں آتا ہے مجھے

0
16
جو مجھے نام سے پہچانے، خطا میری ہے
نام کے بعد جو رہ جائے، ادا میری ہے
شہر والوں نے کئی نام دیے ہیں مجھ کو
آئنے میں جو بچی ہے وہ انا میری ہے
وہ جو ہر بار بجھانے پہ بھی جل اٹھتی ہے
ایک معصوم سی وہ ضدِ بقا میری ہے

0
13
تم اپنے دل سے تھوڑی سی رعایت کیوں نہیں کرتے
کسی دن اپنے ہی گھر میں سکونت کیوں نہیں کرتے
وہ آئینہ تمہیں ہر روز تم سے کم دکھاتا ہے
کبھی اس آئنے سے بھی بغاوت کیوں نہیں کرتے
تمہارے گھر میں سب چیزیں جگہ پر ہیں سوائے دل
ذرا اس ابتری کی تم وضاحت کیوں نہیں کرتے

0
11
یہیں رہنا
ابھی کچھ دیر مرے ساتھ یہیں رہنا
جب یہ شہر
اپنے دروازے بند کر کے
اپنی آہٹ سے بھی ڈرنے لگے
جب گلی گلی

0
13
ان کے نام
جو رات کی آخری بس میں
کھڑکی کے شیشے پر
اپنا تھکا ہوا شہر دیکھتے ہیں
ان کے نام
جن کی جیب میں تنخواہ سے پہلے

2
24
اگر میرے یہ لفظ
تمہارے کمرے کی دیوار سے
ایک سایہ بھی کم کر سکتے
اگر میرے ہاتھ کی حرارت
تمہاری رات سے
ایک ساعت کی سردی چرا سکتی

0
17
بس یہ رات اور سہی، میرے رفیق
صبح کا ذکر ابھی رہنے دو
شہر کے بند دریچوں کے تلے
کتنی آوازیں دبی رہتی ہیں
کتنے چہرے ہیں جو دن بھر ہنس کر
رات بھر آئینوں سے بچتے ہیں

0
19
ہم نے دروازے آہستہ کھولے مگر
پھر بھی گلیوں نے آہٹ ہماری سنی
ایک خاموش چہرے نے دیکھا ہمیں
اور آنکھوں نے چپ چاپ کچھ کہہ دیا
ہم نے چاہا فقط اتنا، پردہ ہٹے
جو نظر سے چھپا تھا، نظر آ سکے

0
20
دل میں جو گرد ہے، اس کو اڑنے بھی دو
بند دریچوں کو اک دن تو کھلنے بھی دو
ایک موسم ہے جو گھر میں ٹھہرا ہوا
اس کو گلیوں کی آواز چھونے بھی دو
شہر دیوار پر کان رکھے ہوئے
اپنی آہٹ سے خود ڈر رہا ہے ابھی

0
25
بہت سے چہروں میں اپنا گماں نہیں ملتا
کبھی کبھی تو خود اپنا نشاں نہیں ملتا
وہ بچپنا جو گلی میں کہیں پہ چُھوٹا تھا
پھر عمر بھر بھی ہمیں وہ وہاں نہیں ملتا
عجیب شہر ہے، آواز سب کی سنتا ہے
مگر کسی کو یہاں رازداں نہیں ملتا

0
19
ہم زخم کو لفظوں میں چھپانے میں لگے ہیں
اور لوگ وہی لفظ سنانے میں لگے ہیں
اک عمر لگی خود کو سمجھنے میں ہمیں بھی
کچھ لوگ ہمیں ہم سے ملانے میں لگے ہیں
دیوار پر اک عکس ابھی قائم ہے مگر ہم
اس گھر کو نئے رنگ لگانے میں لگے ہیں

0
5
آنکھ جب انتظار کھوتی ہے
زندگی اعتبار کھوتی ہے
ایک تصویر جو نظر میں رہے
رفتہ رفتہ نکھار کھوتی ہے
نیند آنکھوں سے روٹھ جائے تو
رات اپنا وقار کھوتی ہے

0
17
اپنی حد پر آ گیا تو انتہا ہو جاؤں گا
حد سے آگے بڑھ گیا تو ابتدا ہو جاؤں گا
مجھ کو لفظوں میں مکمل مت سمجھ لینا کبھی
ایک معنی کھو گیا تو دوسرا ہو جاؤں گا
وقت میرے گرد دیواریں بناتا جائے گا
میں کبھی درزوں سے نکلا تو ہوا ہو جاؤں گا

0
11
کسی منزل پہ رک جاؤ تو پھر رستہ نہیں رہتا
سفر باقی رہے تو آدمی تنہا نہیں رہتا
کوئی لہجہ اگر مشہور ہو جائے تو بھی اکثر
اسی آواز میں پھر آدمی اپنا نہیں رہتا
کسی منصب پہ بیٹھو تو ذرا یہ یاد بھی رکھنا
بدن کرسی پہ رہتا ہے، مگر رشتہ نہیں رہتا

0
12
ایک لمحہ آج مٹھی سے رہا ہو جائے گا
پھر ہمارا وقت شاید لاپتا ہو جائے گا
دل میں رہنے دو ابھی اس درد کو بے نام سا
نام دے دو گے تو شاید مسئلہ ہو جائے گا
یہ جو اک خواہش ابھی دیوار کے پیچھے چھپی
در کھلا تو پورا گھر اک حادثہ ہو جائے گا

0
11
بند دریچے مرے خوابوں میں ہی کھلتے کیوں ہیں
ان سے ہر رات نئے سائے نکلتے کیوں ہیں
ہم نے مٹی میں کئی نام چھپا رکھے تھے
بارش آتی ہے تو یہ حرف نکلتے کیوں ہیں
ہم نے آواز کو دیوار میں چنوا تو دیا
رات ہوتے ہی وہی لفظ مچلتے کیوں ہیں

0
10
ایک دروازہ مرے وہم و یقیں پر رکھ دو
ایک رستہ کسی ان دیکھی زمیں پر رکھ دو
میں نے اک عمر سنبھالا ہے شکستوں کا حساب
اب یہ دفتر بھی کہیں دور وہیں پر رکھ دو
کچھ تعلق بھی دلیلوں سے پرے ہوتے ہیں
ایک کھڑکی سی مگر اپنے یقیں پر رکھ دو

0
17
ریت نے نام مرا کیسے بچایا ہو گا
رات لہروں نے کئی بار مٹایا ہو گا
کون ہو تم؟ یہ نہ پوچھو، تمہیں معلوم تو ہے
جس نے آنا تھا وہی لوٹ کے آیا ہو گا
گھر کے آنگن میں نئی آج یہ دیوار ہے کیوں
باپ نے گھر تو محبت سے بنایا ہوگا

0
19
کچھ ایسے زخم بھی دل میں چھپائے جاتے ہیں
جو مسکراتے ہوئے بھی دکھائے جاتے ہیں
یہ کس مقام پہ لے آئی سادگی ہم کو
کہ جھوٹ سچ کی طرح اب سنائے جاتے ہیں
کسی کے دل میں اترنا تو اور بات ہوئی
یہاں تو رشتے فقط آزمائے جاتے ہیں

0
16
دل فیصلہ سنائے تو دربار چپ رہیں
آنکھیں گواہ ہوں تو طرفدار چپ رہیں
اس نے کہا کہ عشق میں آزادی شرط ہے
زنجیر لے کے آئے طلب گار چپ رہیں
ہم نے شکست کھا کے بھی شکوہ نہیں کیا
فتحوں کا ذکر آئے تو سردار چپ رہیں

0
11
نہ جانے کون سا موسم تھا گھر سے جانے تک
میں اور تھا مرے واپس پلٹ کے آنے تک
میں اپنے باپ کی خاموشیاں سمجھ نہ سکا
ابھی تو بچے ہیں، سمجھیں گے میرے جانے تک
میں اپنے عکس سے برسوں خفا رہا ایسے
کہ آئینہ بھی تھکا مجھ کو پھر منانے تک

0
17
یہاں پہ آ کے تو بس خوار ہو گئے ہم لوگ
اب اس مقام پہ لاچار ہو گئے ہم لوگ
گلہ نہیں کہ زمانے نے راستہ روکا
خود اپنی راہ میں دیوار ہو گئے ہم لوگ
ہمیشہ اشکِ ندامت پیے گئے چپ چاپ
اب تو گریۂ بے اختیار ہو گئے ہم لوگ

0
18
اتنی محرومی ! درِ ادراک سے باہر ہے ابھی
مال و دولت مری املاک سے باہر ہے ابھی
کہنا چاہا تھا کہ رک جاؤ مگر کہہ نہ سکا
یہ گزارش مری اوقات سے باہر ہے ابھی
اک ردا اس کا تقاضہ ہے مگر سمجھے تو
جسم میرا مری پوشاک سے باہر ہے ابھی

0
25
بچھڑا تھا اپنے آپ سے خود سے ملا مجھے
بُھولا ہوں خود کو کون ہوں آخر بتا مجھے
پاگل سمجھ رہے ہیں مجھے گھر کے لوگ کیوں
اب کس سے جا کے پوچھوں کہ کیا ہو گیا مجھے
ہر بار گِر کے خود کو اٹھاتا رہا ہوں میں
اس بار یوں گِرا ہوں کہ تو ہی اٹھا مجھے

0
22
دُکھ کی گٹھڑی پڑی ہے ڈھونے کو
عمر اک لگ گئی سمونے کو
میں بھنور سے نکل کے آیا ہوں
آ گئے ہو مجھے ڈبونے کو
پھول کھلتے نہیں بہار میں بھی
خار اب رہ گئے بچھونے کو

0
19
بچھڑ کے رہ نہیں پائیں گے یہ پتا ہے تمہیں
کہ سارسوں کی طرح کا ہمارا رشتہ ہے

0
22
سورجوں میں شعاعیں باقی ہیں
حشر تک کی سزائیں باقی ہیں
زندگی بھی ستا رہی ہے مجھے
دے دو جو بد دعائیں باقی ہیں
ظلم سہنے کی خو پرانی ہے
کر لو جتنی جفائیں باقی ہیں

0
25
دکھ سے نسبت کثیر جہتی کی
ربط ہر سمت سے نکلتے ہیں

0
29
میں چپ رہوں تو مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
جہاں میں بول پڑوں راستے بدلتے ہیں
میں ننگے پاؤں چلا ہوں یہاں پہ بچپن سے
وہ کیسے ساتھ دیں اب ان کے پاؤں جلتے ہیں
جو مر گئے ہیں وہ آزاد ہو گئے کب سے
جو جی رہے ہیں یونہی عمر بھر وہ گلتے ہیں

0
33
سہتے سہتے غم ہمیں پھر غم کی عادت ہو گئی
ایک دن پھر یوں ہوا غم گھر ہمارا ہو گیا

20
کچھ زخم صدا بن جاتے ہیں
کچھ زخم دعا بن جاتے ہیں
جو خود سے چھپائے جاتے ہیں
وہ زخم ادا بن جاتے ہیں
ہر زخم سزا کب ہوتا ہے
کچھ زخم عطا بن جاتے ہیں

0
37
دو ٹوٹے پھوٹے لوگوں نے
ملتے ہی پہلا کام کیا
وہ شدت سے یوں ٹکرائے
کہ کرچی کرچی بکھر گئے
پھر عمر گزاری ساتھ مگر
وہ آج تلک نہ جُڑ پائے

0
23
کبھی سمجھا ہی نہیں وہ مری تنہائی کو
ناپتا کیسے وہ مرے درد کی گہرائی کو
شام ہونے کو ہے، منزل کا نشاں تک بھی نہیں
دل ترستا ہے کسی حرفِ شناسائی کو
ہم نے ہر زخم زمانے سے چھپا رکھا ہے
کون سمجھے گا بھلا درد کی رسوائی کو

0
22
وہ مزاروں سے بارور آیا
میں حرم سے بھی بے ثمر آیا
وار اس کا تھا، زخم میرے تھے
اور الزام میرے سر آیا
میں نے ہر بات دل سے کہہ دی تھی
پھر بھی ہر لفظ بے اثر آیا

0
35
عشق کی ہر شرط پر ہر وقت آمادہ رہے
وہ نجانے کیوں عدو کے پھر بھی دلدادہ رہے
ہم پہ کیوں خود غرضیوں کے حرف برسائے گئے
ہم تو اپنے کم رہے لوگوں کے زیادہ رہے
تین میں تھے ہم نہ تیرہ میں کبھی اس شہر کے
ہر طرف پُتلے ہمارے پھر بھی ایستادہ رہے

0
37
تم اپنی محبت سے جب چاہو مکر جانا
دل چاہے تو رک جانا نہ چاہے گزر جانا
اک عمر گزاری ہے تم دے نہ سکے کچھ بھی
جاتے ہوئے سر پر تم الزام ہی دھر جانا
اب دل سے اترنے میں کچھ دیر نہیں لگتی
احسان یہ کر جانا چپکے سے اتر جانا

34
میں دوستی کا فرض نبھاتا چلا گیا
میں دشمنوں سے ہاتھ ملاتا چلا گیا
جو ہنس رہا تھا اس سے نہ پوچھا کہ غم ہے کیا
جو رو رہا تھا اس کو ہنساتا چلا گیا
ہر اک قدم پہ مجھ کو یہاں ٹھوکریں لگیں
رستے پہ میں چراغ جلاتا چلا گیا

0
26
عجیب تنہا سا اک مسافر
نجانے کب سے بھٹک رہا ہے
ہے غائبانہ سا ایک رستہ
کہیں پہ بھیتر میں بڑھ رہا ہے
اداس صبحیں اندھیری شامیں
وہ ٹوٹے خوابوں کی انگلی تھامے

0
35
دیکھتے ہی دیکھتے کتنا زمانہ ہو گیا
آئنے میں عکس بھی اپنا پرانا ہو گیا
ان کے ہر اک جھوٹ پر سچ کا گماں ہونے لگا
اور اپنا سچ بھی آخر اک فسانہ ہو گیا
وہ تعلق کو فقط اک کھیل ہی کہتا رہا
اور دل اس کھیل میں کیسا دوانہ ہو گیا

31
زمانے بھر کا جھوٹا آدمی ہوں
میں اپنے من میں ٹوٹا آدمی ہوں
مجھے تم منہ لگانا بند کر دو
میں خود سے ایک روٹھا آدمی ہوں
مقدر نے مجھے ٹھکرا دیا تھا
میں جنت سے نکالا آدمی ہوں

0
50
ہم دیتے صدا، اتنا گوارا بھی نہیں تھا
اُترے تھے جہاں کوئی کنارا بھی نہیں تھا
مدت سے بہت سوچ کے جب بحر میں اترے
تھی بادِ مخالف، کوئی تارا بھی نہیں تھا
جاتے ہوئے کیوں اُس نے پلٹ کر مجھے دیکھا
میں نے تو اُسے آج پکارا بھی نہیں تھا

63
دل میں کسی بھی چیز کا کچھ غم نہیں رکھا
آنکھوں کو دیر تک کبھی پر نم نہیں رکھا
ہم وہ درخت تھے کہ خزاں راس آ گئی
اپنے لیے بہار کا موسم نہیں رکھا
دشمن کے خوف سے ہوئے سب کے چراغ گُل
ہم نے کوئی چراغ بھی مدھم نہیں رکھا

68
کبھی کہا تھا یہ اس نے کہ کوہِ نور ہیں ہم
ہمیں وہ بیچ کے آیا ہے آج سستے میں

46
ہم سے جتنی بھی بے رخی کر لو
اک ملاقات آخری کر لو
دوستی کے نہیں تھے گر قابل
اب چلو ہم سے دشمنی کر لو
زندگی خود سے دور رہ کر کیا
خود سے تھوڑی سی آگہی کر لو

60
مرے جینے کی اب دُعا نہ کرو
زندگی کو مری سَزا نہ کرو
زَخم ناسُور بَن گیا اب تو
درد سہنے دو کچھ دوا نہ کرو
دُکھ سے مجھ کو سکون ملتا ہے
اس سکوں سے مجھے جدا نہ کرو

40
کہنا چاہا تھا مگر اس سے کہا کچھ بھی نہیں
روز ہوتا ہے یہی اس میں نیا کچھ بھی نہیں
اتنی طاقت دی اُسے اُس نے گِنی ہیں سانسیں
اُس نے بدلے میں مگر مجھ کو دیا کچھ بھی نہیں
جی نہ پائے گا مرے بعد کہا تھا اس نے
ایک مدت ہوئی اُس کو تو ہوا کچھ بھی نہیں

60
لفظ ہونٹوں سے گرتے نہیں آج کل
گر پڑیں تو بکھرتے نہیں آج کل
کی بہت کوششیں خوش رہیں وہ سدا
پہلے کرتے تھے کرتے نہیں آج کل
ان پہ مرتے تھے مرتے نہیں آج کل
خوف تھا جان لے لیں گی تنہائیاں

0
63
ہم نے کیا کچھ کر لیا اور کیا نہیں ہم سے ہوا
قسمتوں کا کھیل تھا اب کیا کریں خود سے گلہ
جو غلط ہم سے ہوا اس کی ملی فوراً سزا
پر جو اچھا ہو گیا اس کا نہیں کوئی صلہ
ہر کہانی جھوٹ اس کی روز کے مکر و فریب
عمر بھر کا ساتھ تھا پر کی نہیں اس نے وفا

0
50
جینا بھی ناں جینا بھی اب ایک سا لگتا ہے
ہونا بھی ناں ہونا بھی اب ایک سا لگتا ہے
سَمّ تھا امرت پانی بھی تب مے سا لگتا تھا
پینا بھی ناں پینا بھی اب ایک سا لگتا ہے
دنیا کی بے رنگی سے ہر رنگ ابھرتا تھا
اپنا خون پسینا بھی اب ایک سا لگتا ہے

0
67
وہ لمحے کچے دھاگے تھے
اور ہم بھی خود سے بھاگے تھے
ہر لمحے ایسا لگتا تھا
ہم خواب سے ڈر کے جاگے تھے
سب دن تو گزرے محنت میں
یہاں زخم تو خواب میں لاگے تھے

0
61
تو ناں ملا تو شعر ادھورے ہی رہ گئے
یہ سانحہ نہیں ؟ کہ جدائی بھی سہہ گئے
غربت میں خواب دیکھنے کی یہ سزا ملی
ایک ایک کر کے ، وقت کی لہروں میں بہہ گئے
لوگوں نے ذلتوں کے سوا کچھ نہیں دیا
لفظوں میں جو نہ کہہ سکے نظروں میں کہہ گئے

0
61
گِرد آنکھوں کے ابھی ہالے پڑے ہیں
اور پاؤں میں فقط چھالے پڑے ہیں
تُھڑ دلے ہو بد دلی سے کچھ نہ ہو گا
عشق میں ہر اک قدم جوالے پڑے ہیں
بات ہو تو مسئلے کا حل نکالیں
خامشی کے درمیاں تالے پڑے ہیں

0
81
تیر سارے کہ سارے کماں کھا گئی
اپنی کشتی یہاں بادباں کھا گئی
تم یہ کہتے ہو کیوں ہم کھلے ہی نہیں
ہم کو کھلنے سے پہلے خزاں کھا گئی
تم یہ پوچھو گے تنہائیاں کس لیے
کیا کہیں ہم یہ رشتے زباں کھا گئی

0
72
اک ادھورا سا خواب لے بیٹھا
پھر جو آیا عذاب لے بیٹھا
اُس سے پوچھا کوئی گلہ شکوہ
وہ گِلوں کی کتاب لے بیٹھا
نیست کر دی یہ زندگی اس نے
کیا کہوں انتخاب لے بیٹھا

68
ایسا جیون تھا جس کو جیا ہی نہیں
جام ایسا تھا جس کو پیا ہی نہیں
یوں تو کہنے کو مصروف تھا رات دن
ایسا لگتا ہے کچھ بھی کیا ہی نہیں
اتنی امید تھی روک لیں گے مجھے
نام میرا کسی نے لیا ہی نہیں

0
70
ہر سال ہماری لغت سے
کچھ لفظ نکالے جاتے ہیں،
اور ان کی جگہ کچھ لفظ نئے
لغت میں ڈالے جاتے ہیں۔
اس بار جو خارج لفظ ہوئے،
اُن میں ایک لفظ “محبت” تھا۔

0
63
وہ خود شکستہ مجھے ملا تھا وہ مجھ کو کیسے سنوار دیتا
وہ اپنے خود سے فرار میں تھا وہ مجھ کو کیسے قرار دیتا
یہی تمنا تھی اس سے مل کر محبتوں کے یاں خواب بنتے
خود اس کی آنکھوں میں رتجگے تھے وہ خواب کیسے نکھار دیتا
زباں پہ حرفِ ملال رکھ کر لبوں پہ مسکان کیوں سجائی
وہ کھل کے کہتا تو جان اپنی میں اک ادا پر ہی وار دیتا

92
بے اعتباری کے موسموں میں
ذرا جو مجھ پر یقین رکھتا
ہر ایک طوفاں سے لڑ کے آخر
اِسی کنارے پہ ہی اترتے

0
71
ذرا موسم بدلنے دو
ہمیں کچھ دیر چلنے دو
نئے موسم میں سوچیں گے
ہمارے آپشن کیا ہیں
کہاں قطبی ستارہ ہے
ہمیں کس سمت جانا ہے

0
99
اپنے آپ میں کھو جاتے ہیں
لمبی تان کے سو جاتے ہیں
زندہ تھے تو دور رہے وہ
قبر پہ آکے رو جاتے ہیں
ہر موسم سے پہلے آ کے
دکھ کے کانٹے بو جاتے ہیں

72
اب اس خلیج کو ہم پار کرنا چاہتے ہیں
انا کی جیت کو اب ہار کرنا چاہتے ہیں
ابھی تو سوچ رہے تھے کہ گھر بنائیں گے
ابھی سے گھر کو یہ مسمار کرنا چاہتے ہیں
یہ راہبر ہی تو رہزن ہے قافلے والو
تمہیں اسی لیے بیدار کرنا چاہتے ہیں

0
35
رستہ غلط تھا زندگی اب مُڑ نہیں رہی
ٹوٹی ہے کانچ کی طرح اب جُڑ نہیں رہی
ہم کون سے عقاب تھے طوفاں کو روکتے
چڑیا ہیں پر کٹی ہوئی جو اُڑ نہیں رہی
اِس بار اُس نے روح میں کچھ چیز توڑ دی
کوشش تو کر رہے ہیں مگر جُڑ نہیں رہی

0
68
اس بار ہم بھی خواب کوئی بُن نہیں رہے
یا ہم میں اب خیال کے وہ گُن نہیں رہے
لوگوں کا کیا گلہ کہ وہ مصروف ہیں بہت
باتیں تو میری تم بھی ابھی سُن نہیں رہے
ایسا نہیں کہ ٹوٹ کے بکھرے ہیں پہلی بار
ٹکڑوں کو پہلی بار اب ہم چُن نہیں رہے

0
66
خموشی کے ، سمندر کے
مخالف دو کناروں پر
کھڑے ہیں تیس سالوں سے
نہ میں آواز دیتا ہوں
نہ وہ آواز دیتا ہے
-----------

0
74
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں
بس یادیں رہ جاتی ہیں
کچھ لوگ وہیں رہتے ہیں
بس غائب ہو جاتے ہیں

0
64
مجھ کو حالات نے ڈبویا تھا
دکھ میں میرے خدا بھی رویا تھا
آج سب کچھ لٹا کے چین سے ہوں
ایک مدت ہوئی نہ سویا تھا
زہر تھا اپنی نسل کی جڑ میں
بیج ایسا کبھی نہ بویا تھا

0
92
خواب میں کرب ناک منظر تھا
ہاتھ میں آج اس کے پتھر تھا
مانگ لیتا تو جان دے دیتے
دل ہمارا بڑا سمندر تھا
ایک بھی پھول اُگ نہیں پایا
دل کا صحرا بہت ہی بنجر تھا

0
65
اب چھپا لو مجھے تم آنچل میں
پھنس گیا تھا کہیں پہ دلدل میں
تم رفو گر ہو سوچ لو اک بار
کیوں لگایا ہے ٹاٹ مخمل میں
یہاں انساں کی شکل کے حیوان
رہ رہے ہیں عجیب جنگل میں

0
97
خواہش کے مچلنے میں ابھی وقت لگے گا
اس دل کے بہلنے میں ابھی وقت لگے گا
آواز مری سن کے پلٹتا نہیں کوئی
لہجے کو بدلنے میں ابھی وقت لگے گا
ویران محلے میں قدم رکھ تو دیا ہے
یادوں کے سلگنے میں ابھی وقت لگے گا

0
1
68
اب وہ کہتے ہیں ہم نہیں آتے!
گر بلاتے تو ہم نہیں جاتے؟
خواہشوں کی زمین بنجر تھی
اس میں پھر خواب کیسے اگ پاتے؟
پاؤں میں بیڑیاں تھیں رشتوں کی
اٹھ کے جاتے تو ہم کہاں جاتے؟

0
73
کیا پتا میں کون ہوں
نہ موسیٰ نہ فرعون ہوں

0
61
پیار اک دن کیا پتا تھا اک سزا ہو جائے گا
تیرے جیسا با وفا بھی بے وفا ہو جائے گا
جو مری شہ رگ سے بھی نزدیک تھا اب دیکھ لو
یہ کسے معلوم تھا وہ بھی جدا ہو جائے گا
دل کو ہم نے جسم میں خوں کی روانی تک رکھا
کیا خبر تھی وہ ہی دل درد آشنا ہو جائے گا

0
60
ساتھ نہیں رہنا گر میرے کیوں رہتے ہو
بات نہیں کہنی جو مجھ سے کیوں کہتے ہو
میں کیکر کا پیڑ ہوں کیوں تم پاس آتے ہو
درد نہیں سہنا جو تم نے کیوں سہتے ہو
میں ساگر ہوں مل کر مجھ میں گم جاؤ گے
میری جانب ہی تم آخر کیوں بہتے ہو

1
86
"دل تُو آخر کیوں روتا ہے"
جو ہونا ہے وہ ہوتا ہے
داغ کبھی اترے ہیں آخر
داغوں کو پھر کیوں دھوتا ہے
بنجر جذبوں کی مٹی میں
غم کے آنسو کیوں بوتا ہے

0
90
ہے پیار دشمن ، ہیں یار دشمن
عجیب اب کے بہار دشمن
گلاب اس نے دیا تھا مجھ کو
جو ساتھ تھا اب ہے خار دشمن
کوئی بھی سنتا نہیں ہماری
ہوا ہے دل کا غبار دشمن

76
سر پہ سامان بھی نہیں ہوتا
سفر آسان بھی نہیں ہوتا
گھر میں گھمسان روز پڑتا ہے
جنگ کا میدان بھی نہیں ہوتا
بے دھڑک جھوٹ بول دیتا ہے
اب پشیمان بھی نہیں ہوتا

0
81
بچپن سے اس کے ساتھ فقط دوستی رہی
وہ اپنے خواب جانے کہاں ٹانکتی رہی
اُس پار انتظار میں کرتا رہا مگر
انگلی پکڑ کے باپ کی وہ سوچتی رہی
لوگوں نے میرے خون میں نہلا دیا مجھے
وہ اجنبی نظر سے مجھے دیکھتی رہی

0
68
فاصلوں کے آنے سے
راستے نہیں بنتے
بس فصیل اٹھتی ہے

0
77
رشتوں کے بہروپ بدلتے ہیں
دکھ نئے سانچے میں ڈھلتے ہیں
اس کے سب الفاظ کھلونے ہیں
ان سے ہم دن رات بہلتے ہیں
پہلے دل سے گیت نکلتے تھے
اب تو بس ارمان نکلتے ہیں

0
59
دل ہمیشہ مَرا سا رہتا ہے
اپنا پتا جھڑا سا رہتا ہے
وہم یہ ہے کہ وہ اٹھا لے گا
راہ میں دل پڑا سا رہتا ہے
کتنی صدیاں ہوئیں نہ کٹ پایا
فاصلہ جو ذرا سا رہتا ہے

0
1
58
میرے پر تھے یہ آج مجھ پہ کھلا
زندگی رینگتے گزاری ہے

0
69
اس کو یہ شک نہ جانے کیا بَک گیا ہوں میں
چپ رہ کے اس کے عیب سبھی ڈھک گیا ہوں میں
اس زندگی میں آگ لگانے کا شکریہ
میں خام تھا بہت مگر اب پک گیا ہوں میں
ایسا نہیں کہ زندگی سے ہار مان لوں
اتنا ضرور ہے کہ بہت تھک گیا ہوں میں

0
127
شاہدؔ تمام عمر یہ خواہش رہی مری
اتنے بڑے جہان میں چھوٹا سا گھر تو ہو
اب گھر تو بن گیا ہے مگر لگ رہا ہے یہ
یہ گھر مرا نہیں ہوا میں گھر کا ہو گیا
میں ہر گھڑی سفر میں مگر ہمسفر نہ تھا
تنہائیوں کے جال میں ہر دم پھنسا رہا

0
74
میں بہت خوش تھا مجھے درد کا مارا کر کے
مجھ کو برباد کیا لا کے تمہارا کر کے
خود سے پوچھوں تو بہت دل میں چبھن ہوتی ہے
کیا ملا ساری عمر تجھ کو گوارا کر کے
کس سے اب بات کروں کس سے مدد مانگوں اب
لوگ ہنستے ہیں یاں زخموں کا نظارہ کر کے

0
82
جینے نہیں دیا ہمیں مرنے نہیں دیا
اس زندگی نے کھل کے بکھرنے نہیں دیا
اک دائمی سے خوف میں زندہ رکھا گیا
حق کے لیے ہمیں کبھی لڑنے نہیں دیا
اک خواب تھا کہ کارِ نمایاں کریں کوئی
کارِ خفیف بھی کوئی کرنے نہیں دیا

0
70
دل میں آیا ہے کہ اب آگ لگا دی جائے
بے وفا شہر کے لوگوں کو سزا دی جائے
جشن کی رات کو ماتم میں بدلنے کے لیے
زہر اب ان کی شرابوں میں ملا دی جائے
اس کی تصویر جلائی ہے تو دل کہتا ہے
اس کی ہر ایک نشانی بھی جلا دی جائے

69
طلوع ہم نہ ہوئے اس سے فائدہ یہ ہوا
کئی چراغ اندھیرے میں جھلملا اٹھے

71
کہانی ختم تنہائی پہ ہو گی
کہ آگے اس سے کچھ لکھا نہیں ہے

0
75
نظر میں اب کوئی گلشن نہیں ہے
دریچہ کوئی بھی روشن نہیں ہے
کمی محسوس ہوتی ہے کسی کی
ضرورت ہے مگر فوراً نہیں ہے
بہت سوچا مگر میں آ نہ پایا
تمہیں اب دیکھنے کا من نہیں ہے

0
78
جو بات دل میں تھی اس کو بتا نہیں پایا
یہ گیت درد کا اس کو سنا نہیں پایا
میں گھر سے جاتے سمے یہ سوال پوچھوں گا
وہ اپنے دل میں مجھے کیوں بسا نہیں پایا
مرے خلاف زمانہ تھا پھر بھی زندہ تھا
میں گھر کے لوگوں سے خود کو بچا نہیں پایا

0
69
ہم نہ جاتے تو یہاں سے یہ اجالے جاتے
پھر اندھیرے ہی اندھیرے یہاں پالے جاتے
یہ یقیں تھا کہ مقدر میں لکھا تھا اپنے
اپنے گھر سے نہ نکلتے تو نکالے جاتے
کاسۂ درد کا یہ چھید بچا لایا ہے
اتنے دکھ درد کہاں ہم سے سنبھالے جاتے

0
96
صدیوں سے اک مقام پہ ہی کیوں کھڑے ہیں لوگ
شاید یہ مر چکے ہیں یا زندہ گڑے ہیں لوگ
سچ سے بہت ہی دور زمانہ نکل گیا
اب کیا کہیں کہ کیوں یہاں آخر لڑے ہیں لوگ
کیسے کہیں کہ دوست تھے سب آستیں کے سانپ
کل ساتھ تھے جو سامنے آ کر کھڑے ہیں لوگ

0
108
تسلسل سے ستانا چل رہا ہے
وہی رشتہ پرانا چل رہا ہے
وہی چہرے بدل کر آ رہے ہیں
نیا لیکن ترانہ چل رہا ہے
خدا کے نام پر لوٹا تھا پہلے
وطن کا اب بہانہ چل رہا ہے

0
81
میرے دشمن نے کہا ہے مجھے "چھوڑے گا نہیں"
میرے محبوب سے بہتر میرا دشمن نکلا

58
خود کلامی !
کہا نہیں تھا کہ تم چمکتا ہوا ستارہ
کہا نہیں تھا کہ گرد کچھ دیر کو فضا میں
اٹک گئی ہے کہا نہیں تھا یہی کہا تھا
کہا نہیں تھا کہ گرد کب مستقل جمی ہے
کہا نہیں تھا کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے

0
105
جہاں آغاز میں آسانیاں ہیں
وہاں آخر بہت قربانیاں ہیں
زمانے کی ہوا لگنے نہیں دی
ابھی تک اس لیے نادانیاں ہیں
اُسے ہم نے ہی اِس قابل بنایا
ہمیں پر اب قہر سامانیاں ہیں

0
102
رات اور رنج
نظر جو دن میں کبھی آج تک نہیں آئے
ہمیشہ ملتے ہیں سورج غروب ہوتے ہی

0
2
81
جو روح کے شکن تھے وہ ماتھوں میں آ گئے
سب دوست اس غنیم کی باتوں میں آ گئے
کاندھے پہ لے کے چلنے کا اس نے صلہ دیا
ناکردہ سب گناہ بھی کھاتوں میں آ گئے
یہ تو خبر تھی ہم کو زمانہ خراب ہے
پھر بھی اُسی زمانے کی باتوں میں آ گئے

0
98
رات ہے تھوڑی سوانگ بہت
ایک ہوں میں اور مانگ بہت
خون پسینہ ایک ہوا
اوپر سے ہے بانگ بہت
پیار کی خاطر تڑپ رہی ہے
ہاتھ چڑھا ہے رانگ بہت

0
72
یہاں جہالت سے واسطہ ہے کوئی نہ بولے
یہاں پہ اب سوچنا خطا ہے کوئی نہ بولے
یہاں زبانیں صلیب پر ہیں یاں سر سلامت
عجیب لکنت زدہ فضا ہے کوئی نہ بولے
نہ مال و دولت نہ آبرو کی یہاں حفاظت
مگر یاں منصف کا در کھلا ہے کوئی نہ بولے

0
86
میں اپنے آپ سے اکتا گیا ہوں
کِھلا کب تھا مگر مرجھا گیا ہوں
جو جملہ عمر بھر دہرا رہا تھا
اسے کہنے سے کیوں شرما گیا ہوں
اسے پانے کے کھونے کے عمل میں
میں پہلے موم تھا پتھرا گیا ہوں

0
83
تمہاری آرزو سے لے کے ترکِ آرزو تک
میں پہلے موم تھا آخر میں اب پتھرا گیا ہوں

0
77
خوف اتنا تھا موند لیں آنکھیں
سانس مدت ہوئی چلی ہیں نہیں

0
99
پیار ہے اس سے ، یہ کہنے میں مجھے عار نہیں
کیوں وہ کہتا ہے کہ اس کا میں طلب گار نہیں

0
70
اس گلی سے چلو چپ چاپ گزر جاتے ہیں
اپنے ماضی سے پھر اک بار مکر جاتے ہیں
اس کی ہر یاد رواں ہے مری یادوں میں کہیں
کس طرح لوگ یہاں دل سے اتر جاتے ہیں
مرہمِ وقت کی یہ جھوٹی تسلی تو نہ دو
لگ کے اک بار کہاں زخمِ جگر جاتے ہیں

80
اجنبی !
ہمارے گھر کا دروازہ
طلسمی ہے نجانے کیوں
میں جس جانب بھی ہوں مجھ کو
یہ لگتا ہے میں باہر ہوں

0
73
اس نے کہا کہ تحفے تحائف دیے تھے کیوں
میں نے کہا کہ تحفے میں وعدے میں فرق ہے
اس نے کہا کہ چھپ کہ وہ بوسے دیے تھے کیوں
میں نے کہا کہ بوسے کوئی عہد تو نہیں
اس نے کہا کہ جسم کا الحاق ہو گیا
میں نے کہا کہ روح ابھی ضم نہیں ہوئی

0
102
اے مرے دوست دغے کی یہ سزا کافی ہے
اب مرے ہاتھ قلم ہیں تو ملانے سے رہا

0
82
میں آج وقت کے ہاتھوں سے گرنے والا ہوں
میں ٹوٹ پھوٹ کے آخر بکھرنے والا ہوں
چھپا کے رکھا مجھے بادلوں نے کیوں دن بھر
یہاں پہ شام ہوئی ہے اترنے والا ہوں
مرے سکوت سے شک کیوں ہوا ہے لوگوں کو
میں اس مقام پہ آ کر سنورنے والا ہوں

0
105
میں بندھن سے کیسے رِہا ہو گیا
میں خود آج اپنی سَزا ہو گیا
جو وعدہ کیا تھا نِبھا ناں سکا
میں خود سے بھی اب بے وفا ہو گیا
مرے ساتھ کیا ماجرا ہو گیا
میں کیوں غم میں اب مبتلا ہو گیا

0
74
میں بندھن سے کیسے رِہا ہو گیا
میں خود آج اپنی سَزا ہو گیا
جو وعدہ کیا تھا نِبھا ناں سکا
میں خود سے بھی اب بے وفا ہو گیا
مِرا نام ہی گونجتا تھا یہاں
میں اب بُھولی بِسری صدا ہو گیا

0
65
مرے نصیب کا کاتب کوئی بشر تو نہیں؟
کہیں خدا مری حالت سے بے خبر تو نہیں؟
نہ جانے کیوں کوئی مہمان گھر نہیں آتا
کہ گھر پہ میرے اب آسیب کا اثر تو نہیں
میں خوش تھا گھر جو جلے دشمنوں کے تھے میرے
جلا رہے ہیں جسے اب وہ میرا گھر تو نہیں ؟

3
102
خسارے اور کیا ہونے تھے چشمِ تر کے مجھے
کبھی بھی دیکھ نہ پایا وہ آنکھ بھر کے مجھے
اب اس کے ہاتھ میں خنجر گلاب دکھتا ہے
وہ دے رہا ہے یہ دھوکے سبھی نظر کے مجھے

79
ہم گھڑی بھر بھی مسکرا نہ سکے
آنسوؤں نے جنم دیا تھا ہمیں

0
111
ہاتھ میں جب بھی جام لیتے ہیں
بس تمہارا ہی نام لیتے ہیں
ظلم سہہ کر گلہ نہیں کرتے
خود سے پھر انتقام لیتے ہیں
بھول جاتے ہیں دکھ ہمیں دے کر
صبح سکھ دے کے شام لیتے ہیں

87
بعد میں چاہیے نہیں کچھ بھی
یہ ضرورت نہیں رہے گی پھر
بعد میں سانس ٹوٹ جائے گی
وقت کی ریل چھوٹ جائے گی
بعد میں عمر بیت جائے گی
بعد میں موت جیت جائے گی

1
88
یہ بھی ممکن ہے کہ ہر بات چھپانے لگ جائیں
وجہ کچھ بھی ہو نظر اس سے چرانے لگ جائیں
اب تو اندیشہ ہے اس بار اگر ہاتھ چھٹا
اس کو پھر ڈھونڈ کے لانے میں زمانے لگ جائیں
جن کو دنیا سے ابھی تک ہے چھپا کر رکھا
انہی اشکوں کو کسی روز بہانے لگ جائیں

0
120
بچھڑتے وقت ذرا سی تُو آس رہنے دے
سفر کی آخری سرحد پہ پیاس رہنے دے
بچھڑتے وقت تُو اب تلخیاں نہ پیدا کر
تُو اپنے لہجے میں تھوڑی مٹھاس رہنے دے
بچھڑتے وقت تُو سب کشتیاں جلا کے نہ جا
تُو انتظار کا لذت شناس رہنے دے

0
113
جنگل کی اس آگ میں اپنا شیشم راکھ ہوا
شیشم بھی وہ جس سے اب تابوت بنانا تھا

0
85
نہ ہی بادباں نہ ہوا کوئی , ہے مگر سفینۂ جاں رواں
نہ ہی راستوں کی کوئی خبر نہ ہی منزلوں کا کوئی نشاں

0
74
پھر یوں ہوا کہ زخم تو ناسور ہو گیا
رشتہ جو پیار کا تھا وہ کافور ہو گیا
پھر یوں ہوا کہ بھول گئے گیت پیار کا
نغمہ جو درد کا تھا وہ مقدور ہو گیا
پھر یوں ہوا کہ من میں جو بچہ تھا مر گیا
خوشیوں سے تھا بھرا دلِ رنجور ہو گیا

0
103
ان پہاڑوں کے پار کیا ہو گا
اور کہاں راستہ یہ جائے گا
اس کہانی کی حد پہ کیا ہو گا
میں نہ ہوں گا تو فرق کیا ہو گا
میں جو تھا بھی تو کوئی فرق نہ تھا
وقت پہلے بھی کب رکا تھا یہاں

0
73
گر چھوڑ کے جانا ہے تو ڈھونڈو نہ بہانے
رستے میں تمہارے کوئی دیوار نہیں ہے

0
89