Circle Image

خواجہ امید محی الدّین

@150247

نیدرلینڈ

عمریں گزر گئی ہیں اسی احتمال میں
ہو جائے ربط و ضبط کسی ماہ و سال میں
تاخیر سے سہی مگر اب جانتے ہیں شیخ
کچھ فائدہ ہؤا نہ ہے جنگ و جدال میں
دنیا کی تند و تیز ہواؤں سے لڑ سکے
ناپیَد ہیں وہ خوبیاں اس نو نہال میں

0
4
سوچتا رہتا ہوں اکثر زندگی میں کیا کیا
بیشتر شاعر پڑھے کالج گئے اور بیاہ کیا
میری گم گشتہ کہانی کے فسانے الاماں
کب ہوئی شامِ غریباں کس طرح فردا کیا
اس جہاں سے کیا گِلہ جب مَیں بھی اس کا جزو ہوں
میری خوش فہمی نے مجھ کو بارہا تنہا کیا

0
4
کیا کہوں صحرا نوردی یا نشاطِ جُستجو
چھلنی کر دیتی ہے مفلس کی مچلتی آرزو
خواب میں آنے کا وعدہ کر لیا اس نے مگر
نا کسی وعدے کی خواہش ہے نہ کوئی جستجو
کیا کیا کالج میں جا کر کیا ملا محنت کا پھل
کاش اس ڈگری کی بھی ہوتی کہیں تو آبرو

0
7
جب ملے تو اتنے قریب کہ غمِ دو جہاں سے گزر گئے
جب جدا ہوئے تو لگا مجھے ترے آستاں سے گزر گئے
رہ حُسن کیا ہے صنم مجھے تری دوستی نے سکھا دیا
جہاں وصل و ہجر میں ٹھن گئی وہاں درمیاں سے گزر گئے
یہ بقائے عشق کا راز ہے رہیں شک شکوک سے ماورا
جہاں ایسا ہونے کو آگیا وہاں رازداں سے گزر گئے

0
8
تیرہ و تاریک راہیں ہیں نگاہیں خیرہ کن
وعدۂ فردا پہ زندہ ہیں عزیزانِ وطن
ساکنانِ حسرت و درماندگی واللّہ نہ پوچھ
آنسوؤں سے پیاس بُجھتی ہے غذا رنج و محن
اشتہائے بھُوک سے مغلوب ہو جب نازنیں
میری نظروں میں اسی کا نام ہے دَورِ فتن

0
8
کئی سال سے یہی شوق ہے ولے شین قاف میں جھُول ہے
جو بھی ایسا غبی ہو ہم نوا اسے داد دینا فضول ہے
چڑھے پھانسیوں پہ وہ بے گنہ جنہیں یاد ہی نہیں کیا کیا
یہ عجیب نگری ہے ہم نوا یہاں کس جہاں کا اصول ہے
جہاں خواہشوں کا حصول ہو غم و رنج و فکر بھی دَور ہو
مجھے ایسی موت عزیز ہے مجھے ایسی مَوت قبول ہے

0
9
شوقِ گفتار سہی نُطق سزاوار نہیں
تیرے نغموں کا یہاں کوئی خریدار نہیں
جا کے صحرا میں کسی ناقہ و محمل کو سنا
تیرے افکار کا یاں کوئی طلب گار نہیں
غربت و بھُوک کی ماری ہوئی بے جان عوام
بے خطر کُود پڑی راہ میں دیوار نہیں

6